رات کے پچھلے پہر رونے کے عادی روئے
Published 13 October 2026
رات کے پچھلے پہر رونے کے عادی روئے
آپ آئے بھی مگر رونے کے عادی روئے
ان کے آ جانے سے کچھ تھم سے گئے تھے آنسو
ان کے جاتے ہی مگر رونے کے عادی روئے
ہائے پابندیٔ آداب تری محفل کی
کہ سر راہ گزر رونے کے عادی روئے
ایک تقریب تبسم تھی بہاراں لیکن
پھر بھی آنکھیں ہوئیں تر رونے کے عادی روئے
درد مندوں کو کہیں بھی تو قرار آ نہ سکا
کوئی صحرا ہو کہ گھر رونے کے عادی روئے
اے فرازؔ ایسے میں برسات کٹے گی کیوں کر
گر یوں ہی شام و سحر رونے کے عادی روئے
About Ahmed Faraz (احمد فراز)
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by Ahmed Faraz
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (Ghazal)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (Ghazal)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں (Ghazal)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں (Ghazal)