Prof. Syed Mujahid Sajjad

جو قربتوں کے نشے تھے وہ اب اترنے لگے

Ahmed Faraz

Published 13 October 2026

جو قربتوں کے نشے تھے وہ اب اترنے لگے

ہوا چلی ہے تو جھونکے اداس کرنے لگے

گئی رتوں کا تعلق بھی جان لیوا تھا

بہت سے پھول نئے موسموں میں مرنے لگے

وہ مدتوں کی جدائی کے بعد ہم سے ملا

تو اس طرح سے کہ اب ہم گریز کرنے لگے

غزل میں جیسے ترے خد و خال بول اٹھیں

کہ جس طرح تری تصویر بات کرنے لگے

بہت دنوں سے وہ گمبھیر خامشی ہے فرازؔ

کہ لوگ اپنے خیالوں سے آپ ڈرنے لگے

About Ahmed Faraz (احمد فراز)

احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Ahmed Faraz

More Urdu poetry by Ahmed Faraz