اگر یہ سب کچھ نہیں
منتخب شہکار نظموں کا البم
Published 13 October 2026
ملے تو ہم آج بھی ہیں لیکن
نہ میرے دل میں وہ تشنگی تھی
کہ تجھ سے مل کر کبھی نہ بچھڑوں
نہ آج تجھ میں وہ زندگی تھی
کہ جسم و جاں میں ابال آئے
نہ خواب زاروں میں روشنی تھی
نہ میری آنکھیں چراغ کی لو
نہ تجھ میں ہی خود سپردگی تھی
نہ بات کرنے کی کوئی خواہش
نہ چپ ہی میں خوبصورتی تھی
مجسموں کی طرح تھے دونوں
نہ دوستی تھی نہ دشمنی تھی
مجھے تو کچھ یوں لگا ہے جیسے
وہ ساعتیں بھی گزر گئی ہیں
کہ جن کو ہم لا زوال سمجھے
وہ خواہشیں بھی تو مر گئی ہیں
جو تیرے میرے لہو کی حدت
کو آخرش برف کر گئی ہیں
محبتیں شوق کی چٹانوں
سے گھاٹیوں میں اتر گئی ہیں
وہ قربتیں وہ جدائیاں سب
غبار بن کر بکھر گئی ہیں
اگر یہ سب کچھ نہیں تو بتلا
وہ چاہتیں اب کدھر گئی ہیں
About Ahmed Faraz (احمد فراز)
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by Ahmed Faraz
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (Ghazal)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (Ghazal)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں (Ghazal)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں (Ghazal)