Prof. Syed Mujahid Sajjad

اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی

Ahmed Faraz

Published 13 October 2026

اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی

آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی

ورنہ اب تلک یوں تھا خواہشوں کی بارش میں

یا تو ٹوٹ کر رویا یا غزل سرائی کی

تج دیا تھا کل جن کو ہم نے تیری چاہت میں

آج ان سے مجبوراً تازہ آشنائی کی

ہو چلا تھا جب مجھ کو اختلاف اپنے سے

تو نے کس گھڑی ظالم میری ہم نوائی کی

ترک کر چکے قاصد کوئے نامراداں کو

کون اب خبر لاوے شہر آشنائی کی

طنز و طعنہ و تہمت سب ہنر ہیں ناصح کے

آپ سے کوئی پوچھے ہم نے کیا برائی کی

پھر قفس میں شور اٹھا قیدیوں کا اور صیاد

دیکھنا اڑا دے گا پھر خبر رہائی کی

دکھ ہوا جب اس در پر کل فرازؔ کو دیکھا

لاکھ عیب تھے اس میں خو نہ تھی گدائی کی

About Ahmed Faraz (احمد فراز)

احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Ahmed Faraz

More Urdu poetry by Ahmed Faraz