Prof. Syed Mujahid Sajjad

بن باس

Ahmed Faraz

Published 13 October 2026

میرے شہر کے سارے رستے بند ہیں لوگو

میں اس شہر کا نغمہ گر

جو دو اک موسم غربت کے دکھ جھیل کے آیا

تاکہ اپنے گھر کی دیواروں سے

اپنی تھکی ہوئی اور ترسی ہوئی

آنکھیں سہلاؤں

اپنے دروازے کے اترتے روغن کو

اپنے اشکوں سے صیقل کر لوں

اپنے چمن کے جلے ہوئے پودوں

اور گرد آلود درختوں کی

مردہ شاخوں پر بین کروں

ہر مہجور ستون کو اتنا ٹوٹ کے چوموں

میرے لبوں کے خون سے

ان کے نقش و نگار سبھی جی اٹھیں

گلی کے لوگوں کو اتنا دیکھوں

اتنا دیکھوں

میری آنکھیں

برسوں کی ترسی ہوئی آنکھیں

چہروں کے آنگن بن جائیں

پھر میں اپنا ساز اٹھاؤں

آنسوؤں اور مسکانوں سے جھلمل جھلمل

نظمیں غزلیں گیت سناؤں

اپنے پیاروں

درد کے ماروں کا درماں بن جاؤں

لیکن میرے شہر کے سارے رستوں پر

اب باڑ ہے لوہے کے کانٹوں کی

شہ دروازے پر کچھ پہرے دار کھڑے ہیں

جو مجھ سے اور مجھ جیسے دل والوں کی

پہچان سے عاری

میرے ساز سے

سنگینوں سے بات کریں

میں ان سے کہتا ہوں

دیکھو

میں اس شہر کا نغمہ گر ہوں

برسوں بعد کڑی راہوں کی

ساری اذیت جھیل کے اب واپس آیا ہوں

اس مٹی کی خاطر

جس کی خوشبوئیں

دنیا بھر کی دوشیزاؤں کے جسموں کی مہکوں سے

اور سارے جہاں کے

سبھی گلابوں سے

بڑھ کر ہے

مجھ کو شہر میں

میرے شہر میں جانے دو

لیکن تنے ہوئے نیزوں نے

میرے جسم کو یوں برمایا

میرے ساز کو یوں ریزایا

میرا ہمکتا خون اور میرے سسکتے نغمے

شہ دروازے کی دہلیز سے

رستے رستے

شہر کے اندر جا پہنچے ہیں

اور میں اپنے جسم کا ملبہ

ساز کا لاشہ

اپنے شہر کے شہ دروازے

کی دہلیز پہ چھوڑ کے

پھر انجانے شہروں کی شہراہوں پر

مجبور سفر ہوں

جن کو تج کر گھر آیا تھا

جن کو تج کر گھر آیا تھا

About Ahmed Faraz (احمد فراز)

احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Ahmed Faraz

More Urdu poetry by Ahmed Faraz