Prof. Syed Mujahid Sajjad

اے میرے سارے لوگو

Ahmed Faraz

کلیاتِ احمد فراز

Published 13 October 2026

اب مرے دوسرے بازو پہ وہ شمشیر ہے جو

اس سے پہلے بھی مرا نصف بدن کاٹ چکی

اسی بندوق کی نالی ہے مری سمت کہ جو

اس سے پہلے مری شہہ رگ کا لہو چاٹ چکی

پھر وہی آگ در آئی ہے مری گلیوں میں

پھر مرے شہر میں بارود کی بو پھیلی ہے

پھر سے ''تو کون ہے میں کون ہوں'' آپس میں سوال

پھر وہی سوچ میان من و تو پھیلی ہے

مری بستی سے پرے بھی مرے دشمن ہوں گے

پر یہاں کب کوئی اغیار کا لشکر اترا

آشنا ہاتھ ہی اکثر مری جانب لپکے

میرے سینے میں سدا اپنا ہی خنجر اترا

پھر وہی خوف کی دیوار تذبذب کی فضا

پھر وہی عام ہوئیں اہل ریا کی باتیں

نعرۂ حب وطن مال تجارت کی طرح

جنس ارزاں کی طرح دین خدا کی باتیں

اس سے پہلے بھی تو ایسی ہی گھڑی آئی تھی

صبح وحشت کی طرح شام غریباں کی طرح

اس سے پہلے بھی تو پیمان وفا ٹوٹے تھے

شیشۂ دل کی طرح آئینۂ جاں کی طرح

پھر کہاں احمریں ہونٹوں پہ دعاؤں کے دئیے

پھر کہاں شبنمیں چہروں پہ رفاقت کی ردا

صندلیں پاؤں سے مستانہ روی روٹھ گئی

مرمریں ہاتھوں پہ جل بجھ گیا انگار حنا

دل نشیں آنکھوں میں فرقت زدہ کاجل رویا

شاخ بازو کے لیے زلف کا بادل رویا

مثل پیراہن گل پھر سے بدن چاک ہوئے

جیسے اپنوں کی کمانوں میں ہوں اغیار کے تیر

اس سے پہلے بھی ہوا چاند محبت کا دو نیم

نوک دشنہ سے کھچی تھی مری دھرتی پہ لکیر

آج ایسا نہیں ایسا نہیں ہونے دینا

اے مرے سوختہ جانو مرے پیارے لوگو

اب کے گر زلزلے آئے تو قیامت ہوگی

میرے دلگیر مرے درد کے مارے لوگو

کسی غاصب کسی ظالم کسی قاتل کے لیے

خود کو تقسیم نہ کرنا مرے سارے لوگو

About Ahmed Faraz (احمد فراز)

احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Ahmed Faraz

More Urdu poetry by Ahmed Faraz