نامۂ جاناں
کلیاتِ احمد فراز
Published 13 October 2026
مدتوں بعد ملا نامۂ جاناں لیکن
نہ کوئی دل کی حکایت نہ کوئی پیار کی بات
نہ کسی حرف میں محرومئ جاں کا قصہ
نہ کسی لفظ میں بھولے ہوئے اقرار کی بات
نہ کسی سطر پہ بھیگے ہوئے کاجل کی لکیر
نہ کہیں ذکر جدائی کا نہ دیدار کی بات
بس وہی ایک ہی مضموں کہ مرے شہر کے لوگ
کیسے سہمے ہوئے رہتے ہیں گھروں میں اپنے
اتنی بے نام خموشی ہے کہ دیوانے بھی
کوئی سودا نہیں رکھتے ہیں سروں میں اپنے
اب قفس ہی کو نشیمن کا بدل جان لیا
اب کہاں طاقت پرواز پروں میں اپنے
وہ جو دو چار سبو کش تھے کہ جن کے دم سے
گردش جام بھی تھی رونق مے خانہ بھی تھی
وہ جو دو چار نواگر تھے کہ جن کے ہوتے
حرمت نغمہ بھی تھی جرأت رندانہ بھی تھی
کوئی مقتل کوئی زنداں کوئی پردیس گیا
چند ہی تھے کہ روش جن کی جداگانہ بھی تھی
اب تو بس بردہ فروشی ہے جدھر بھی جاؤ
اب تو ہر کوچہ و کو مصر کا بازار لگے
سر دربار ستادہ ہیں بیاضیں لے کر
وہ جو کچھ دوست کبھی صاحب کردار لگے
غیرت عشق کہ کل مال تجارت میں نہ تھی
آج دیکھو کہ ہیں انبار کے انبار لگے
ایسا آسیب زدہ شہر کہ دیکھا نہ سنا
ایسی دہشت ہے کہ پتھر ہوئے سب کے بازو
در و دیوار خرابات وہی ہیں لیکن
نہ کہیں قلقل مینا ہے نہ گل بانگ سبو
بے دلی شیوۂ ارباب محبت ٹھہرا
اب کوئی آئے کہ جائے ''تنناہو یاہو''
About Ahmed Faraz (احمد فراز)
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by Ahmed Faraz
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (Ghazal)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (Ghazal)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں (Ghazal)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں (Ghazal)