لے اڑا پھر کوئی خیال ہمیں
کلیاتِ احمد فراز
Published 13 October 2026
لے اڑا پھر کوئی خیال ہمیں
ساقیا ساقیا سنبھال ہمیں
رو رہے ہیں کہ ایک عادت ہے
ورنہ اتنا نہیں ملال ہمیں
خلوتی ہیں ترے جمال کے ہم
آئنے کی طرح سنبھال ہمیں
مرگ انبوہ جشن شادی ہے
مل گئے دوست حسب حال ہمیں
اختلاف جہاں کا رنج نہ تھا
دے گئے مات ہم خیال ہمیں
کیا توقع کریں زمانے سے
ہو بھی گر جرأت سوال ہمیں
ہم یہاں بھی نہیں ہیں خوش لیکن
اپنی محفل سے مت نکال ہمیں
ہم ترے دوست ہیں فرازؔ مگر
اب نہ اور الجھنوں میں ڈال ہمیں
About Ahmed Faraz (احمد فراز)
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by Ahmed Faraz
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (Ghazal)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (Ghazal)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں (Ghazal)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں (Ghazal)