تخلیق
کلیاتِ احمد فراز
Published 13 October 2026
درد کی آگ بجھا دو کہ ابھی وقت نہیں
زخم دل جاگ سکے نشتر غم رقص کرے
جو بھی سانسوں میں گھلا ہے اسے عریاں نہ کرو
چپ بھی شعلہ ہے مگر کوئی نہ الزام دھرے
ایسے الزام کہ خود اپنے تراشے ہوئے بت
جذبۂ کاوش خالق کو نگوں سار کریں
مو قلم حلقۂ ابرو کو بنا دے خنجر
لفظ نوحوں میں رقم مدح رخ یار کریں
رقص مینا سے اٹھے نغمۂ رقص بسمل
ساز خود اپنے مغنی کو گنہ گار کریں
مرہم اشک نہیں زخم طلب کا چارہ
خوں بھی روؤگے تو کس خاک کی سج دھج ہوگی
کانپتے ہاتھوں سے ٹوٹی ہوئی بنیادوں پر
جو بھی دیوار اٹھاؤ گے وہی کج ہوگی
کوئی پتھر ہو کہ نغمہ کوئی پیکر ہو کہ رنگ
جو بھی تصویر بناؤ گے اپاہج ہوگی
About Ahmed Faraz (احمد فراز)
احمد فراز (1931–2008) پاکستان کے ممتاز اردو شاعر تھے، جو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ تنہا تنہا، دردِ آشوب، نایافت، شبخون اور میرے خواب ریزہ ریزہ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ غزل میں ان کا مقام زبان کی سلاست اور جذبے کی شدت کی بدولت ہے اور وہ اردو ادب کے بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
More Urdu poetry by Ahmed Faraz
- سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں (Ghazal)
- رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ (Ghazal)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں (Ghazal)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں (Ghazal)