محمد ابراہیم ذوق
Ibrahim Zauq: Urdu poetry
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
50 verses on this site
Ghazal
مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا
Ghazal
دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں
Ghazal
چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے
Ghazal
ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا
Ghazal
اک صدمہ درد دل سے مری جان پر تو ہے
Ghazal
محفل میں شور قلقل مینائے مل ہوا
Ghazal
جو کچھ کہ ہے دنیا میں وہ انساں کے لیے ہے
Ghazal
نہ کھینچو عاشق تشنہ جگر کے تیر پہلو سے
Ghazal
نالہ اس شور سے کیوں میرا دہائی دیتا
Ghazal
ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سے
Ghazal
بلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیں
Ghazal
قصد جب تیری زیارت کا کبھو کرتے ہیں
Ghazal
گہر کو جوہری صراف زر کو دیکھتے ہیں
Ghazal
نیمچہ یار نے جس وقت بغل میں مارا
Ghazal
کل گئے تھے تم جسے بیمار ہجراں چھوڑ کر
Ghazal
کہاں تلک کہوں ساقی کہ لا شراب تو دے
Ghazal
کوئی ان تنگ دہانوں سے محبت نہ کرے
Ghazal
بادام دو جو بھیجے ہیں بٹوے میں ڈال کر
Ghazal
برق میرا آشیاں کب کا جلا کر لے گئی
Ghazal
لیتے ہی دل جو عاشق دل سوز کا چلے
Ghazal
اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھ
Ghazal
آنکھ اس پرجفا سے لڑتی ہے
Ghazal
دکھلا نہ خال ناف تو اے گل بدن مجھے
Ghazal
جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا
Ghazal
یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہے
Ghazal
خوب روکا شکایتوں سے مجھے
Ghazal
مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے
Ghazal
ہاتھ سینہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہو
Ghazal
کب حق پرست زاہد جنت پرست ہے
Ghazal
اس سنگ آستاں پہ جبین نیاز ہے
Ghazal
چپکے چپکے غم کا کھانا کوئی ہم سے سیکھ جائے
Ghazal
کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے
Ghazal
بزم میں ذکر مرا لب پہ وہ لائے تو سہی
Ghazal
عزیزو اس کو نہ گھڑیال کی صدا سمجھو
Ghazal
کیا آئے تم جو آئے گھڑی دو گھڑی کے بعد
Ghazal
خط بڑھا کاکل بڑھے زلفیں بڑھیں گیسو بڑھے
Ghazal
آنکھیں مری تلووں سے وہ مل جائے تو اچھا
Ghazal
آتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائی
Ghazal
جب چلا وہ مجھ کو بسمل خوں میں غلطاں چھوڑ کر
Ghazal
زخمی ہوں ترے ناوک دزدیدہ نظر سے
Ghazal
سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے
Ghazal
رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
Ghazal
وہ کون ہے جو مجھ پہ تأسف نہیں کرتا
Ghazal
مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے
Ghazal
وقت پیری شباب کی باتیں
Ghazal
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
Ghazal
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
Ghazal
پھرتا لیے چمن میں ہے دیوانہ پن مجھے
Ghazal
معلوم جو ھوتا ھميں انجام محبت
Ghazal
مذکورہ تری بزم ميں کس کا نہيں آتا