کیا آئے تم جو آئے گھڑی دو گھڑی کے بعد
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
کیا آئے تم جو آئے گھڑی دو گھڑی کے بعد
سینے میں ہوگی سانس اڑی دو گھڑی کے بعد
کیا روکا اپنے گریے کو ہم نے کہ لگ گئی
پھر وہ ہی آنسوؤں کی جھڑی دو گھڑی کے بعد
کوئی گھڑی اگر وہ ملایم ہوئے تو کیا
کہہ بیٹھیں گے پھر ایک کڑی دو گھڑی کے بعد
اس لعل لب کے ہم نے لیے بوسے اس قدر
سب اڑ گئی مسی کی دھڑی دو گھڑی کے بعد
اللہ رے ضعف سینہ سے ہر آہ بے اثر
لب تک جو پہنچی بھی تو چڑھی دو گھڑی کے بعد
کل اس سے ہم نے ترک ملاقات کی تو کیا
پھر اس بغیر کل نہ پڑی دو گھڑی کے بعد
تھے دو گھڑی سے شیخ جی شیخی بگھارتے
ساری وہ شیخی ان کی جھڑی دو گھڑی کے بعد
کہتا رہا کچھ اس سے عدو دو گھڑی تلک
غماز نے پھر اور جڑی دو گھڑی کے بعد
پروانہ گرد شمع کے شب دو گھڑی رہا
پھر دیکھی اس کی خاک پڑی دو گھڑی کے بعد
تو دو گھڑی کا وعدہ نہ کر دیکھ جلد آ
آنے میں ہوگی دیر بڑی دو گھڑی کے بعد
گو دو گھڑی تک اس نے نہ دیکھا ادھر تو کیا
آخر ہمیں سے آنکھ لڑی دو گھڑی کے بعد
کیا جانے دو گھڑی وہ رہے ذوقؔ کس طرح
پھر تو نہ ٹھہرے پاؤں گھڑی دو گھڑی کے بعد
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)