سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے
کون پھرتا ہے یہ مردار لیے پھرتی ہے
گھر سے باہر نہ نکلتا کبھی اپنے خورشید
ہوس گرمیٔ بازار لیے پھرتی ہے
وہ مرے اختر طالع کی ہے واژوں گردش
کہ فلک کو بھی نگوں سار لیے پھرتی ہے
کر دیا کیا ترے ابرو نے اشارہ قاتل
کہ قضا ہاتھ میں تلوار لیے پھرتی ہے
جا کے اک بار نہ پھرنا تھا جہاں واں مجھ کو
بے قراری ہے کہ سو بار لیے پھرتی ہے
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)