نہ کھینچو عاشق تشنہ جگر کے تیر پہلو سے
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
نہ کھینچو عاشق تشنہ جگر کے تیر پہلو سے
نکالے پر ہے مثل ماہی تصویر پہلو سے
نہ لے اے ناوک افگن دل کو میرے چیر پہلو سے
کہ وہ تو جا چکا ساتھ آہ کے جوں تیر پہلو سے
دل سیپارہ کو لے ٹانک تعویذوں میں ہیکل کے
نہ سرکا یہ حمائل اے بت بے پیر پہلو سے
وہ ہو�� بے دست و پا بسمل رسائی جب نہ ہاتھ آئی
کیا تا پائے قاتل از تہ شمشیر پہلو سے
اسیر زلف دیوانے ہیں دیکھ اے پاسباں شب کو
دبا کر بیٹھ ان کے پاؤں کی زنجیر پہلو سے
مصور لیلیٰ و مجنوں کی ناکامی پہ حیراں ہیں
کبھی بیٹھا نہ مل کر پہلوئے تصویر پہلو سے
یہ دل لب تشنہ تیغ یار کا ہے رات بھر کرتا
صدائے العطش جوں نالۂ شب گیر پہلو سے
عجب حسرت کا عالم تھا کہ مجنوں کہتا تھا پیہم
چھٹے پہلو مرے محمل کا یا تقدیر پہلو سے
نہ کہنا استخواں ان کو یہ عالم لاغری کا ہے
کہ ہے دکھلا رہا میرا دل دلگیر پہلو سے
خیال ابروئے جاناں نہیں اب بھولتا اک دم
سپاہی ہے جدا کرتا نہیں شمشیر پہلو سے
تمام اہل سخن بزم سخن میں ذوقؔ حیراں ہیں
ملا جو قافیہ تو نے کیا تحریر پہلو سے
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)