مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
مزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو بہ دو کرتے
کہ گل تمہاری بہاروں میں آرزو کرتے
مزے جو موت کے عاشق بیاں کبھو کرتے
مسیح و خضر بھی مرنے کی آرزو کرتے
غرض تھی کیا ترے تیروں کو آب پیکاں سے
مگر زیارت دل کیوں کہ بے وضو کرتے
عجب نہ تھا کہ زمانے کے انقلاب سے ہم
تیمم آب سے اور خاک سے وضو کرتے
اگر یہ جانتے چن چن کے ہم کو توڑیں گے
تو گل کبھی نہ تمنائے رنگ و بو کرتے
سمجھ یہ دار و رسن تار و سوزن اے منصور
کہ چاک پردہ حقیقت کا ہیں رفو کرتے
یقیں ہے صبح قیامت کو بھی صبوحی کش
اٹھیں گے خواب سے ساقی سبو سبو کرتے
نہ رہتی یوسف کنعاں کی گرمئ بازار
مقابلے میں جو ہم تجھ کو روبرو کرتے
چمن بھی دیکھتے گلزار آرزو کی بہار
تمہاری باد بہاری میں آرزو کرتے
سراغ عمر گزشتہ کا کیجئے گر ذوقؔ
تمام عمر گزر جائے جستجو کرتے
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)