Prof. Syed Mujahid Sajjad

جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا

محمد ابراہیم ذوق

دیوانِ ذوق

Published 14 October 2026

جدا ہوں یار سے ہم اور نہ ہو رقیب جدا

ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا

تری گلی سے نکلتے ہی اپنا دم نکلا

رہے ہے کیوں کہ گلستاں سے عندلیب جدا

دکھا دے جلوہ جو مسجد میں وہ بت کافر

تو چیخ اٹھے موذن جدا خطیب جدا

جدا نہ درد جدائی ہو گر مرے اعضا

حروف درد کی صورت ہوں اے طبیب جدا

ہے اور علم و ادب مکتب محبت میں

کہ ہے وہاں کا معلم جدا ادیب جدا

ہجوم اشک کے ہم راہ کیوں نہ ہو نالہ

کہ فوج سے نہیں ہوتا کبھی نقیب جدا

فراق خلد سے گندم ہے سینہ چاک اب تک

الٰہی ہو نہ وطن سے کوئی غریب جدا

کیا حبیب کو مجھ سے جدا فلک نے مگر

نہ کر سکا مرے دل سے غم حبیب جدا

کریں جدائی کا کس کس کی رنج ہم اے ذوقؔ

کہ ہونے والے ہیں ہم سب سے عن قریب جدا

About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)

محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔

Read all poetry by Ibrahim Zauq

More Urdu poetry by Ibrahim Zauq