Prof. Syed Mujahid Sajjad

ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا

محمد ابراہیم ذوق

دیوانِ ذوق

Published 14 October 2026

ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا

چشمک ہے برق کی کہ تبسم شرار کا

میں جو شہید ہوں لب خندان یار کا

کیا کیا چراغ ہنستا ہے میرے مزار کا

ہو راز دل نہ یار سے پوشیدہ یار کا

پردہ نہ درمیاں ہو جو دل کے غبار کا

اس روئے تابناک پہ ہر قطرۂ عرق

گویا کہ اک ستارہ ہے صبح بہار کا

ہے عین وصل میں بھی مری چشم سوئے در

لپکا جو پڑ گیا ہے مجھے انتظار کا

پہنچے گا تیرے پاس کبوتر سے پیشتر

مکتوب شوق اڑا کے ترے بے قرار کا

ہو پاک دامنوں کو خلش گر سے کیا خطر

کھٹکا نہیں نگاہ کو مژگاں کے خار کا

بجھنے کی دل کی آگ نہیں زیر خاک بھی

ہوگا درخت گور پہ میری چنار کا

دیکھ اپنے در گوش کو عارض سے متصل

دیکھا نہ ہو ستارہ جو صبح بہار کا

پوچھے ہے کیا حلاوت تلخابۂ سرشک

شربت ہے باغ خلد بریں کے انار کا

ہے دل کی داؤ گھات میں مژگاں سے چشم یار

ہے شوق اس کی ٹٹی کی اوجھل شکار کا

قاصد لکھوں لفافۂ خط کو غبار سے

تا جانے وہ یہ خط ہے کسی خاکسار کا

اے ذوقؔ ہوش گر ہے تو دنیا سے دور بھاگ

اس مے کدے میں کام نہیں ہوشیار کا

About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)

محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔

Read all poetry by Ibrahim Zauq

More Urdu poetry by Ibrahim Zauq