ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا
چشمک ہے برق کی کہ تبسم شرار کا
میں جو شہید ہوں لب خندان یار کا
کیا کیا چراغ ہنستا ہے میرے مزار کا
ہو راز دل نہ یار سے پوشیدہ یار کا
پردہ نہ درمیاں ہو جو دل کے غبار کا
اس روئے تابناک پہ ہر قطرۂ عرق
گویا کہ اک ستارہ ہے صبح بہار کا
ہے عین وصل میں بھی مری چشم سوئے در
لپکا جو پڑ گیا ہے مجھے انتظار کا
پہنچے گا تیرے پاس کبوتر سے پیشتر
مکتوب شوق اڑا کے ترے بے قرار کا
ہو پاک دامنوں کو خلش گر سے کیا خطر
کھٹکا نہیں نگاہ کو مژگاں کے خار کا
بجھنے کی دل کی آگ نہیں زیر خاک بھی
ہوگا درخت گور پہ میری چنار کا
دیکھ اپنے در گوش کو عارض سے متصل
دیکھا نہ ہو ستارہ جو صبح بہار کا
پوچھے ہے کیا حلاوت تلخابۂ سرشک
شربت ہے باغ خلد بریں کے انار کا
ہے دل کی داؤ گھات میں مژگاں سے چشم یار
ہے شوق اس کی ٹٹی کی اوجھل شکار کا
قاصد لکھوں لفافۂ خط کو غبار سے
تا جانے وہ یہ خط ہے کسی خاکسار کا
اے ذوقؔ ہوش گر ہے تو دنیا سے دور بھاگ
اس مے کدے میں کام نہیں ہوشیار کا
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔