مذکورہ تری بزم ميں کس کا نہيں آتا
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
مذکورہ تری بزم ميں کس کا نہيں آتا
پر ذکر ہمارا نہيں آتا نہيں آتا
جينا ھميں اصلا نظر اپنا نہيں آتا
گر آج بھی وہ رشک مسيحا نہيں آتا
کيا جانے اسے وہم ھے کيا ميرے طرف سے
جو خواب ميں بھی رات کو نہيں آتا
بے جا ھے ولا اس کے نہانےکی شکايت
کيا کيجئے گا فرمائيے اچھا نہيں آتا
کس دن نہيں ھوتا قلق ھجر ہے مجھ کو
کس وقت مرا منہ کو کليجہ نہيں آتا
ھم رونے پہ آجائيں تو دريا ھي بہائيں
شبنم کی طرح سے ھميں رونا نہيں آتا
آنا ھے تو آجا کہ کوئی دم کی ھے فرصت
پھر دیکھیئےآتا ھے دم يا نہيں آتا
ہستی سے زيادہ کچھ آرام عدم ميں
جو جاتا ھے يہاں سے وہ دوبارہ نہيں آتا
دنيا ھے وہ صياد کہ سب دام ميں اس کے
آ جاتے ھيں ليکن کوئی دانا نہيں آتا
جو کوچہ قاتل ميں گيا پھر وہ نہ آيا
کيا جانے مزہ کيا ھے کہ جيتا نہيں آتا
قسمت ہی سے لاچار ھوں اے ذوق و گرنہ
سب فن ميں ھوں ميں طاق مجھےکيا نہيں آتا
ابراہیم ذوق
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)