جو کچھ کہ ہے دنیا میں وہ انساں کے لیے ہے
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
جو کچھ کہ ہے دنیا میں وہ انساں کے لیے ہے
آراستہ یہ گھر اسی مہماں کے لیے ہے
زلفیں تری کافر انہیں دل سے مرے کیا کام
دل کعبہ ہے اور کعبہ مسلماں کے لیے ہے
ہو قید تفکر سے کب آزاد سخن ور
منظور قفس مرغ خوش الحاں کے لیے ہے
اپنوں سے نہ مل اپنے ہیں سب اپنوں کے دشمن
ہر نے میں بھری آگ نیستاں کے لیے ہے
کچھ بخت سے میرے جو سوا ہے وہ سیاہی
باقی ہے تو میری شب ہجراں کے لیے ہے
دیوانہ ہوں میں بھی وہ تماشا کہ مرا ذکر
گویا سبق اطفال دبستاں کے لیے ہے
ہے بادہ کشوں کے لیے اک غیب سے تائید
زاہد جو دعا مانگتا باراں کے لیے ہے
چنگل میں ہے موذی کے دل اس چشم کے ہاتھوں
گھیرا یہ غضب پنجۂ مژگاں کے لیے ہے
میں کس کی نگاہوں کا ہوں وحشی کہ مری خاک
اک کحل بصر چشم غزالاں کے لیے ہے
دل بھی ہے بلا قابل مشق ستم و ناز
جو تیر ہے اس تودۂ طوفاں کے لیے ہے
نکلے کوئی کیا قید علائق سے کہ اے ذوقؔ
در ہی نہیں اس خانۂ زنداں کے لیے ہے
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)