رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو
ناخن خدا نہ دے تجھے اے پنجۂ جنوں
دے گا تمام عقل کے بخیے ادھیڑ تو
اس صید مضطرب کو تحمل سے ذبح کر
دامان و آستیں نہ لہو میں لتھیڑ تو
چھٹتا ہے کون مر کے گرفتار دام زلف
تربت پہ اس کی جال کا پائے گا پیڑ تو
اے زاہد دو رنگ نہ پیر آپ کو بنا
مانند صبح کاذب ابھی ہے ادھیڑ تو
یہ تنگنائے دہر نہیں منزل فراغ
غافل نہ پاؤں حرص کے پھیلا سکیڑ تو
ہو قطع نخل الفت اگر پھر بھی سبز ہو
کیا ہو جو پھینکے جڑ ہی سے اس کو اکھیڑ تو
جو سوتی بھیڑ باعث غوغا جگائے پھر
دروازہ گھر کا اس سگ دنیا پہ بھیڑ تو
عمر رواں کا توسن چالاک اس لیے
تجھ کو دیا کہ جلد کرے یاں سے ایڑ تو
آوارگی سے کوئے محبت کی ہاتھ اٹھا
اے ذوقؔ یہ اٹھا نہ سکے گا کھکھیڑ تو
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)