کل گئے تھے تم جسے بیمار ہجراں چھوڑ کر
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
کل گئے تھے تم جسے بیمار ہجراں چھوڑ کر
چل بسا وہ آج سب ہستی کا ساماں چھوڑ کر
طفل اشک ایسا گرا دامان مژگاں چھوڑ کر
پھر نہ اٹھا کوچۂ چاک گریباں چھوڑ کر
کیونکہ نکلے تیرا اس کا دل میں پیکاں چھوڑ کر
جائے بیضے کو کہاں یہ مرغ پراں چھوڑ کر
جس نے ہو لذت اٹھائی زخم تیغ عشق کی
کب وہ مرہم دان کو ڈھونڈے نمکداں چھوڑ کر
صید دل کو کیونکہ چھوڑے جب کہ دکھلا دے نہ تو
مچھلیاں دست حنائی میں مری جاں چھوڑ کر
سرد مہری سے کسی کی آگے ہی جی سرد ہے
یاں سے ہٹ جا دھوپ اے ابر خراماں چھوڑ کر
دیکھیے کیا ہو کہ ہے اب جان کے پیچھے پڑی
دل کو اے کافر تری زلف پریشاں چھوڑ کر
اے دل اس کے تیر کے ہم راہ سینے سے نکل
ورنہ پچھتائے گا تو یہ ساتھ ناداں چھوڑ کر
کیوں نہ رم کر جائیں آہو ایسے وحشی سے ترے
شیر بھاگیں جس کے نالوں سے نیستاں چھوڑ کر
سرخی پاں دیکھ لے زاہد جو دنداں پر ترے
اٹھ کھڑا ہو ہاتھ سے تسبیح مرجاں چھوڑ کر
پیش خیمہ لے کے نکلا گرد باد دور رو
ہے جو سرگرم سفر تن کو مری جاں چھوڑ کر
گر خدا دیوے قناعت ماہ دوہفتہ کی طرح
دوڑے ساری کو کبھی آدھی نہ انساں چھوڑ کر
ساغر دل بیچتا آیا ہوں کھو مت ہاتھ سے
چوکتا ہے کیوں یہ جنس دست گرداں چھوڑ کر
کام یہ تیرا ہی تھا رحمت ہو اے ابر کرم
ورنہ جائے داغ عصیاں میرا داماں چھوڑ کر
پڑھ غزل اے ذوقؔ کوئی گرم سی اب تو نہ جا
جانب مضمون طرز تفتہ جاناں چھوڑ کر
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)