Prof. Syed Mujahid Sajjad

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

محمد ابراہیم ذوق

دیوانِ ذوق

Published 14 October 2026

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

اپنی خوشی نہ آئے، نہ اپنی خوشی چلے

بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے

پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے

ہو عمرِ خضر بھی تو کہیں گے بوقتِ مرگ

ہم کیا رہے یہاں ابھی آئے ابھی چلے

دنیا نے کس کا راہِ فنا میں دیا ہے ساتھ

تم بھی چلے چلو یونہی جب تک چلی چلے

نازاں نہ ہو خِرد پہ جو ہونا ہے وہ ہی ہو

دانش تری نہ کچھ مری دانشوری چلے

کم ہوں گے اس بساط پہ ہم جیسے بدقمار

جو چال ہم چلے سو نہایت بری چلے

جاتے ہوائے شوق میں ہیں اس چمن سے ذوق

اپنی بلا سے بادِ صبا اب کبھی چلے

ابراہیم ذوق

About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)

محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔

Read all poetry by Ibrahim Zauq

More Urdu poetry by Ibrahim Zauq