دکھلا نہ خال ناف تو اے گل بدن مجھے
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
دکھلا نہ خال ناف تو اے گل بدن مجھے
ہر لالہ یاں ہے نافۂ مشک ختن مجھے
ہمدم وبال دوش نہ کر پیرہن مجھے
کانٹا سا ہے کھٹکتا مرا تن بدن مجھے
پھرتا لیے چمن میں ہے دیوانہ پن مجھے
زنجیر پا ہے موج نسیم چمن مجھے
تسبیح دور بزم میں دیکھو امام کو
بخشی ہے حق نے زیب سر انجمن مجھے
اے میرے یاسمن ترے دندان آبدار
گلشن میں ہیں رلاتے گل یاسمن مجھے
محراب کعبہ جب سے ہے تیرا خم کماں
صید حرم سمجھتے ہیں ناوک فگن مجھے
ہے تن میں ریشہ ہائے نئے خشک استخواں
کیوں کھینچتا ہے کانٹوں میں اے ضعف تن مجھے
اے لب مسی کو پھینک کہ نیلم ہے کم بہا
یاقوت دے یا دے کوئی لعل یمن مجھے
ہوں شمع یا کہ شعلہ خبر کچھ نہیں مگر
فانوس ہو رہا ہے مرا پیرہن مجھے
اک سرزمین لالہ بہار و خزاں میں ہوں
یکساں ہے داغ تازہ و داغ کہن مجھے
خسرو سے تیشہ بولا جو چاٹوں نہ تیرا خوں
شیریں نہ ہووے خون سر کوہ کن مجھے
رخ پر تمہارے دام جو ڈالا ہے سبزے نے
آتا نظر ہے دیدۂ عنقا دہن مجھے
یہ دل وہ ہے کہ کر دے زمیں آسماں کو خاک
اک دم کو برق دے جو پنہا پیرہن مجھے
کوچے میں تیرے کون تھا لیتا بھلا خبر
شب چاندنی نے آ کے پھنایا کفن مجھے
دکھلاتا آسماں سے ہے روئے زمیں کی سیر
اے رشک ماہ تیری جبیں کا شکن مجھے
رکھتا ہے چشم لطف پہ کس کس ادا کے ساتھ
دیتا ہے جام ساقیٔ پیماں شکن مجھے
ہے جذب دل درست تو چاہ فراق سے
کھینچے گی تیری زلف شکن در شکن مجھے
دکھلاتا اک ادا میں ہے سو سو طرح بناؤ
اس سادہ پن کے ساتھ ترا بانکپن مجھے
جیسے کنویں میں ہو کوئی تارا چمک رہا
دل سوجھتا ہے یوں تہ چاہ ذقن مجھے
آ کر اسے بھی دو کبھی آنکھیں ذرا دکھا
آنکھیں دکھا رہا ہے غرال ختن مجھے
آ اے مرے چمن کہ ہوا میں تری ہوا
صحرائے دل ہوا ہے چمن در چمن مجھے
یا رب یہ دل ہے یا کہ ہے آئینۂ نظر
دکھلا رہا ہے سیر و سفر در وطن مجھے
آیا ہوں نور لے کے میں بزم سخن میں ذوقؔ
آنکھوں پہ سب بٹھائیں گے اہل سخن مجھے
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)