وقت پیری شباب کی باتیں
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
وقت پیری شباب کی باتیں
ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں
پھر مجھے لے چلا ادھر دیکھو
دل خانہ خراب کی باتیں
واعظا چھوڑ ذکر نعمت خلد
کہہ شراب و کباب کی باتیں
مہ جبیں یاد ہیں کہ بھول گئے
وہ شب ماہتاب کی باتیں
حرف آیا جو آبرو پہ مری
ہیں یہ چشم پرآب کی باتیں
سنتے ہیں اس کو چھیڑ چھیڑ کے ہم
کس مزے سے عتاب کی باتیں
جام مے منہ سے تو لگا اپنے
چھوڑ شرم و حجاب کی باتیں
مجھ کو رسوا کریں گی خوب اے دل
یہ تری اضطراب کی باتیں
جاؤ ہوتا ہے اور بھی خفقاں
سن کے ناصح جناب کی باتیں
قصۂ زلف یار دل کے لیے
ہیں عجب پیچ و تاب کی باتیں
ذکر کیا جوش عشق میں اے ذوقؔ
ہم سے ہوں صبر و تاب کی باتیں
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)