نالہ اس شور سے کیوں میرا دہائی دیتا
دیوانِ ذوق
Published 14 October 2026
نالہ اس شور سے کیوں میرا دہائی دیتا
اے فلک گر تجھے اونچا نہ سنائی دیتا
دیکھ چھوٹوں کو ہے اللہ بڑائی دیتا
آسماں آنکھ کے تل میں ہے دکھائی دیتا
لاکھ دیتا فلک آزار گوارہ تھے مگر
ایک تیرا نہ مجھے درد جدائی دیتا
دے دعا وادیٔ پر خار جنوں کو ہر گام
داد یہ تیری ہے اے آبلہ پائی دیتا
روش اشک گرا دیں گے نظر سے اک دن
ہے ان آنکھوں سے یہی مجھ کو دکھائی دیتا
منہ سے بس کرتے کبھی یہ نہ خدا کے بندے
گر حریصوں کو خدا ساری خدائی دیتا
پنجۂ مہر کو بھی خون شفق میں ہر روز
غوطے کیا کیا ہے ترا دست حنائی دیتا
کون گھر آئنے کے آتا اگر وہ گھر میں
خاکساری سے نہ جاروب صفائی دیتا
میں ہوں وہ صید کہ پھر دام میں پھنستا جا کر
گر قفس سے مجھے صیاد رہائی دیتا
خوگر ناز ہوں کس کا کہ مجھے ساغر مے
بوسۂ لب نہیں بے چشم نمائی دیتا
دیکھ گر دیکھنا ہے ذوقؔ کہ وہ پردہ نشیں
دیدۂ روزن دل سے ہے دکھائی دیتا
About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)
محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔
More Urdu poetry by Ibrahim Zauq
- مرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا (Ghazal)
- دود دل سے ہے یہ تاریکی مرے غم خانہ میں (Ghazal)
- چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے (Ghazal)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کا (Ghazal)