Prof. Syed Mujahid Sajjad

نیمچہ یار نے جس وقت بغل میں مارا

محمد ابراہیم ذوق

دیوانِ ذوق

Published 14 October 2026

نیمچہ یار نے جس وقت بغل میں مارا

جو چڑھا منہ اسے میدان اجل میں مارا

مال جب اس نے بہت رد و بدل میں مارا

ہم نے دل اپنا اٹھا اپنی بغل میں مارا

اس لب و چشم سے ہے زندگی و موت اپنی

کہ کبھی پل میں جلایا کبھی پل میں مارا

کھینچ کر عشق ستم پیشہ نے شمشیر جفا

پہلے اک ہاتھ مجھی پر تھا ازل میں مارا

چرخ بد بیں کی کبھی آنکھ نہ پھوٹی سو بار

تیر نالے نے مرے چشم زحل میں مارا

اجل آئی نہ شب ہجر میں اور ہم کو فلک

بے اجل تو نے تمنائے اجل میں مارا

عشق کے ہاتھ سے نے قیس نہ فرہاد بچا

اس کو گر دشت میں تو اس کو جبل میں مارا

دل کو اس کاکل پیچاں سے نہ بل کرنا تھا

یہ سیہ بخت گیا اپنے ہی بل میں مارا

کون فریاد سنے زلف میں دل کی تو نے

ہے مسلمان کو کافر کے عمل میں مارا

عرس کی شب بھی مری گور پہ دو پھول نہ لائے

پتھر اک گنبد تربت کے کنول میں مارا

آنکھ سے آنکھ ہے لڑتی مجھے ڈر ہے دل کا

کہیں یہ جائے نہ اس جنگ و جدل میں مارا

ہم نے جانا تھا جبھی عشق نے مارا اس کو

تیشہ فرہاد نے جس وقت جبل میں مارا

نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیب

ذوقؔ یاروں نے بہت زور غزل میں مارا

About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)

محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔

Read all poetry by Ibrahim Zauq

More Urdu poetry by Ibrahim Zauq