Prof. Syed Mujahid Sajjad

زخمی ہوں ترے ناوک دزدیدہ نظر سے

محمد ابراہیم ذوق

دیوانِ ذوق

Published 14 October 2026

زخمی ہوں ترے ناوک دزدیدہ نظر سے

جانے کا نہیں چور مرے زخم جگر سے

ہم خوب ہیں واقف ترے انداز کمر سے

یہ تار نکلتا ہے کوئی دل کے گہر سے

پھر آئے اگر جیتے وہ کعبہ کے سفر سے

تو جانو پھرے شیخ جی اللہ کے گھر سے

سرمایۂ امید ہے کیا پاس ہمارے

اک آہ ہے سینہ میں سو نامید اثر سے

وہ خلق سے پیش آتے ہیں جو فیض رساں ہیں

ہیں شاخ ثمر دار میں گل پہلے ثمر سے

حاضر ہیں مرے جذبۂ وحشت کے جلو میں

باندھے ہوئے کہسار بھی دامن کو کمر سے

لبریز مئے صاف سے ہوں جام بلوریں

زمزم سے ہے مطلب نہ صفا سے نہ حجر سے

اشکوں میں بہے جاتے ہیں ہم سوئے در یار

مقصود رہ کعبہ ہے دریا کے سفر سے

فریاد ستم کش ہے وہ شمشیر کشیدہ

جس کا نہ رکے وار فلک کی بھی سپر سے

کھلتا نہیں دل بند ہی رہتا ہے ہمیشہ

کیا جانے کہ آ جائے ہے تو اس میں کدھر سے

اف گرمیٔ وحشت کہ مری ٹھوکروں ہی میں

پتھر ہیں پہاڑوں کے اڑے جاتے شرر سے

کچھ رحمت باری سے نہیں دور کہ ساقی

روئیں جو ذرا مست تو مے ابر سے برسے

میں کشتہ ہوں کس چشم سیہ مست کا یا رب

ٹپکے ہے جو مستی مری تربت کے شجر سے

نالوں کے اثر سے مرے پھوڑا سا ہے پکتا

کیوں ریم سدا نکلے نہ آہن کے جگر سے

اے ذوقؔ کسی ہمدم دیرینہ کا ملنا

بہتر ہے ملاقات مسیحا و خضر سے

About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)

محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔

Read all poetry by Ibrahim Zauq

More Urdu poetry by Ibrahim Zauq