Prof. Syed Mujahid Sajjad

جب چلا وہ مجھ کو بسمل خوں میں غلطاں چھوڑ کر

محمد ابراہیم ذوق

دیوانِ ذوق

Published 14 October 2026

جب چلا وہ مجھ کو بسمل خوں میں غلطاں چھوڑ کر

کیا ہی پچھتاتا تھا میں قاتل کا داماں چھوڑ کر

میں وہ مجنوں ہوں جو نکلوں کنج زنداں چھوڑ کر

سیب جنت تک نہ کھاؤں سنگ طفلاں چھوڑ کر

پیوے میرا ہی لہو مانی جو لب اس شوخ کے

کھینچے تو شنگرف سے خون شہیداں چھوڑ کر

میں ہوں وہ گمنام جب دفتر میں نام آیا مرا

رہ گیا بس منشی قدرت جگہ واں چھوڑ کر

سایۂ سرو چمن تجھ بن ڈراتا ہے مجھے

سانپ سا پانی میں اے سرو خراماں چھوڑ کر

ہو گیا طفلی ہی سے دل میں ترازو تیر عشق

بھاگے ہیں مکتب سے ہم اوراق میزاں چھوڑ کر

اہل جوہر کو وطن میں رہنے دیتا گر فلک

لعل کیوں اس رنگ سے آتا بدخشاں چھوڑ کر

شوق ہے اس کو بھی طرز نالۂ عشاق سے

دم بدم چھیڑے ہے منہ سے دود قلیاں چھوڑ کر

دل تو لگتے ہی لگے گا حوریان عدن سے

باغ ہستی سے چلا ہوں ہائے پریاں چھوڑ کر

گھر سے بھی واقف نہیں اس کے کہ جس کے واسطے

بیٹھے ہیں گھر بار ہم سب خانہ ویراں چھوڑ کر

وصل میں گر ہووے مجھ کو رویت ماہ رجب

روئے جاناں ہی کو دیکھوں میں تو قرآں چھوڑ کر

ان دنوں گرچہ دکن میں ہے بڑی قدر سخن

کون جائے ذوقؔ پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر

About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)

محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔

Read all poetry by Ibrahim Zauq

More Urdu poetry by Ibrahim Zauq