Prof. Syed Mujahid Sajjad

گہر کو جوہری صراف زر کو دیکھتے ہیں

محمد ابراہیم ذوق

دیوانِ ذوق

Published 14 October 2026

گہر کو جوہری صراف زر کو دیکھتے ہیں

بشر کے ہیں جو مبصر بشر کو دیکھتے ہیں

نہ خوب و زشت نہ عیب و ہنر کو دیکھتے ہیں

یہ چیز کیا ہے بشر ہم بشر کو دیکھتے ہیں

وہ دیکھیں بزم میں پہلے کدھر کو دیکھتے ہیں

محبت آج ترے ہم اثر کو دیکھتے ہیں

وہ اپنی برش تیغ نظر کو دیکھتے ہیں

ہم ان کو دیکھتے ہیں اور جگر کو دیکھتے ہیں

جب اپنے گریہ و سوز جگر کو دیکھتے ہیں

سلگتی آگ میں ہم خشک و تر کو دیکھتے ہیں

رفیق جب مرے زخم جگر کو دیکھتے ہیں

تو چارہ گر انہیں وہ چارہ گر کو دیکھتے ہیں

نہ طمطراق کو نے کر و فر کو دیکھتے ہیں

ہم آدمی کے صفات و سیر کو دیکھتے ہیں

جو رات خواب میں اس فتنہ گر کو دیکھتے ہیں

نہ پوچھ ہم جو قیامت سحر کو دیکھتے ہیں

وہ روز ہم کو گزرتا ہے جیسے عید کا دن

کبھی جو شکل تمہاری سحر کو دیکھتے ہیں

جہاں کے آئنوں سے دل کا آئنہ ہے جدا

اس آئنے میں ہم آئینہ گر کو دیکھتے ہیں

بنا کے آئینہ دیکھے ہے پہلے آئینہ گر

ہنر ور اپنے ہی عیب و ہنر کو دیکھتے ہیں

About Ibrahim Zauq (محمد ابراہیم ذوق)

محمد ابراہیم ذوق (1789 – 1854) بہادر شاہ ظفر کے درباری شاعر اور غالب کے حریف تھے، غزل گوئی میں مہارت رکھتے تھے۔

Read all poetry by Ibrahim Zauq

More Urdu poetry by Ibrahim Zauq