اکبر الہ آبادی
Akbar Allahabadi: Urdu poetry
اکبر الہ آبادی (1846 – 1921) اردو کے مزاحیہ اور طنزیہ شاعر تھے۔ انھوں نے استعماری معاشرت، سیاست اور مغربی تہذیب پر طنز لکھا۔
57 verses on this site
Nazm
دیکھ آئے ہم بھی دو دن رہ کے دہلی کی بہار
Nazm
سید سے آج حضرت واعظ نے یہ کہا
Nazm
خدا علی گڑھ کے مدرسے کو تمام امراض سے شفا دے
Nazm
سب جانتے ہیں علم سے ہے زندگی کی روح
Nazm
سر میں شوق کا سودا دیکھا
Nazm
نامہ نہ کوئی یار کا پیغام بھیجئے
Nazm
یہ موجودہ طریقے راہیٔ ملک عدم ہوں گے
Ghazal
عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا
Ghazal
دل ہو خراب دین پہ جو کچھ اثر پڑے
Ghazal
حسینوں کے گلے سے لگتی ہے زنجیر سونے کی
Ghazal
تم نے بیمار محبت کو ابھی کیا دیکھا
Ghazal
سینے سے لگائیں تمہیں ارمان یہی ہے
Ghazal
نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتے
Ghazal
صدیوں فلاسفی کی چناں اور چنیں رہی
Ghazal
کیا جانیے سید تھے حق آگاہ کہاں تک
Ghazal
خدا علی گڑھ کی مدرسے کو تمام امراض سے شفا دے
Ghazal
نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا
Ghazal
حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کے
Ghazal
کچھ آج علاج دل بیمار تو کر لیں
Ghazal
طریق عشق میں مجھ کو کوئی کامل نہیں ملتا
Ghazal
جب یاس ہوئی تو آہوں نے سینے سے نکلنا چھوڑ دیا
Ghazal
نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ زبان باقی
Ghazal
انہیں نگاہ ہے اپنے جمال ہی کی طرف
Ghazal
پھر گئی آپ کی دو دن میں طبیعت کیسی
Ghazal
تو وضع پر اپنی قائم رہ قدرت کی مگر تحقیر نہ کر
Ghazal
اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے
Ghazal
درد تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہو
Ghazal
امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے
Ghazal
جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا
Ghazal
ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گے
Ghazal
جذبۂ دل نے مرے تاثیر دکھلائی تو ہے
Ghazal
رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی
Ghazal
کوئی ہنس رہا ہے کوئی رو رہا ہے
Ghazal
ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے
Ghazal
بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تک
Ghazal
تری زلفوں میں دل الجھا ہوا ہے
Ghazal
ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہو
Ghazal
وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہے
Ghazal
دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملا
Ghazal
سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں
Ghazal
گلے لگائیں کریں تم کو پیار عید کے دن
Ghazal
چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں
Ghazal
حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
Ghazal
حال دل میں سنا نہیں سکتا
Ghazal
فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
Ghazal
غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا
Ghazal
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
Ghazal
جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا
Ghazal
نئی تہذیب سے ساقی نے ایسی گرمجوشی کی
Ghazal
آج آرائش گیسوئے دوتا ہوتی ہے
Ghazal
دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں
Ghazal
اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے
Ghazal
بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی
Ghazal
اک بوسہ دیجئے مرا ایمان لیجئے
Ghazal
آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے
Ghazal
آہ جو دل سے نکالی جائے گی
Ghazal
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے