ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے
کلیاتِ اکبر
Published 14 October 2026
ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے
منزل ہستی نہیں ہے دل لگانے کے لیے
کیا مجھے خوش آئے یہ حیرت سرائے بے ثبات
ہوش اڑنے کے لیے ہے جان جانے کے لیے
دل نے دیکھا ہے بساط قوت ادراک کو
کیا بڑھے اس بزم میں آنکھیں اٹھانے کے لیے
خوب امیدیں بندھیں لیکن ہوئیں حرماں نصیب
بدلیاں اٹھیں مگر بجلی گرانے کے لیے
سانس کی ترکیب پر مٹی کو پیار آ ہی گیا
خود ہوئی قید اس کو سینے سے لگانے کے لیے
جب کہا میں نے بھلا دو غیر کو ہنس کر کہا
یاد پھر مجھ کو دلانا بھول جانے کے لیے
دیدہ بازی وہ کہاں آنکھیں رہا کرتی ہیں بند
جان ہی باقی نہیں اب دل لگانے کے لیے
مجھ کو خوش آئی ہے مستی شیخ جی کو فربہی
میں ہوں پینے کے لیے اور وہ ہیں کھانے کے لیے
اللہ اللہ کے سوا آخر رہا کچھ بھی نہ یاد
جو کیا تھا یاد سب تھا بھول جانے کے لیے
سر کہاں کے ساز کیسا کیسی بزم سامعین
جوش دل کافی ہے اکبرؔ تان اڑانے کے لیے
About Akbar Allahabadi (اکبر الہ آبادی)
اکبر الہ آبادی (1846 – 1921) اردو کے مزاحیہ اور طنزیہ شاعر تھے۔ انھوں نے استعماری معاشرت، سیاست اور مغربی تہذیب پر طنز لکھا۔