Prof. Syed Mujahid Sajjad

سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں

اکبر الہ آبادی

کلیاتِ اکبر

Published 14 October 2026

سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں

یہ نہ سمجھیں کہ آہ کرتا ہوں

بحر ہستی میں ہوں مثال حباب

مٹ ہی جاتا ہوں جب ابھرتا ہوں

اتنی آزادی بھی غنیمت ہے

سانس لیتا ہوں بات کرتا ہوں

شیخ صاحب خدا سے ڈرتے ہوں

میں تو انگریزوں ہی سے ڈرتا ہوں

آپ کیا پوچھتے ہیں میرا مزاج

شکر اللہ کا ہے مرتا ہوں

یہ بڑا عیب مجھ میں ہے اکبرؔ

دل میں جو آئے کہہ گزرتا ہوں

About Akbar Allahabadi (اکبر الہ آبادی)

اکبر الہ آبادی (1846 – 1921) اردو کے مزاحیہ اور طنزیہ شاعر تھے۔ انھوں نے استعماری معاشرت، سیاست اور مغربی تہذیب پر طنز لکھا۔

Read all poetry by Akbar Allahabadi

More Urdu poetry by Akbar Allahabadi