Prof. Syed Mujahid Sajjad

درد تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہو

اکبر الہ آبادی

کلیاتِ اکبر

Published 14 October 2026

درد تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہو

بندگی حالت سے ظاہر ہے خدا ہو یا نہ ہو

جھومتی ہے شاخ گل کھلتے ہیں غنچے دم بہ دم

با اثر گلشن میں تحریک صبا ہو یا نہ ہو

وجد میں لاتے ہیں مجھ کو بلبلوں کے زمزمے

آپ کے نزدیک با معنی صدا ہو یا نہ ہو

کر دیا ہے زندگی نے بزم ہستی میں شریک

اس کا کچھ مقصود کوئی مدعا ہو یا نہ ہو

کیوں سول سرجن کا آنا روکتا ہے ہم نشیں

اس میں ہے اک بات آنر کی شفا ہو یا نہ ہو

مولوی صاحب نہ چھوڑیں گے خدا گو بخش دے

گھیر ہی لیں گے پولس والے سزا ہو یا نہ ہو

ممبری سے آپ پر تو وارنش ہو جائے گی

قوم کی حالت میں کچھ اس سے جلا ہو یا نہ ہو

معترض کیوں ہو اگر سمجھے تمہیں صیاد دل

ایسے گیسو ہوں تو شبہ دام کا ہو یا نہ ہو

About Akbar Allahabadi (اکبر الہ آبادی)

اکبر الہ آبادی (1846 – 1921) اردو کے مزاحیہ اور طنزیہ شاعر تھے۔ انھوں نے استعماری معاشرت، سیاست اور مغربی تہذیب پر طنز لکھا۔

Read all poetry by Akbar Allahabadi

More Urdu poetry by Akbar Allahabadi