نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا
کلیاتِ اکبر
Published 14 October 2026
نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا
نہ نکلا کبھی تم سے کچھ کام دل کا
محبت کا نشہ رہے کیوں نہ ہر دم
بھرا ہے مئے عشق سے جام دل کا
پھنسایا تو آنکھوں نے دام بلا میں
مگر عشق میں ہو گیا نام دل کا
ہوا خواب رسوا یہ عشق بتاں میں
خدا ہی ہے اب میرے بدنام دل کا
یہ بانکی ادائیں یہ ترچھی نگاہیں
یہی لے گئیں صبر و آرام دل کا
دھواں پہلے اٹھتا تھا آغاز تھا وہ
ہوا خاک اب یہ ہے انجام دل کا
جب آغاز الفت ہی میں ��ل رہا ہے
تو کیا خاک بتلاؤں انجام دل کا
خدا کے لئے پھیر دو مجھ کو صاحب
جو سرکار میں کچھ نہ ہو کام دل کا
پس مرگ ان پر کھلا حال الفت
گئی لے کے روح اپنی پیغام دل کا
تڑپتا ہوا یوں نہ پایا ہمیشہ
کہوں کیا میں آغاز و انجام دل کا
دل اس بے وفا کو جو دیتے ہو اکبرؔ
تو کچھ سوچ لو پہلے انجام دل کا
About Akbar Allahabadi (اکبر الہ آبادی)
اکبر الہ آبادی (1846 – 1921) اردو کے مزاحیہ اور طنزیہ شاعر تھے۔ انھوں نے استعماری معاشرت، سیاست اور مغربی تہذیب پر طنز لکھا۔