Prof. Syed Mujahid Sajjad

بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی

اکبر الہ آبادی

کلیاتِ اکبر

Published 14 October 2026

بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی

گزر چکی ہے یہ فصل بہار ہم پر بھی

عروس دہر کو آیا تھا پیار ہم پر بھی

یہ بیسوا تھی کسی شب نثار ہم پر بھی

بٹھا چکا ہے زمانہ ہمیں بھی مسند پر

ہوا کیے ہیں جواہر نثار ہم پر بھی

عدو کو بھی جو بنایا ہے تم نے محرم راز

تو فخر کیا جو ہوا اعتبار ہم پر بھی

خطا کسی کی ہو لیکن کھلی جو ان کی زباں

تو ہو ہی جاتے ہیں دو ایک وار ہم پر بھی

ہم ایسے رند مگر یہ زمانہ ہے وہ غضب

کہ ڈال ہی دیا دنیا کا بار ہم پر بھی

ہمیں بھی آتش الفت جلا چکی اکبرؔ

حرام ہو گئی دوزخ کی نار ہم پر بھی

اکبر الہ آبادی

About Akbar Allahabadi (اکبر الہ آبادی)

اکبر الہ آبادی (1846 – 1921) اردو کے مزاحیہ اور طنزیہ شاعر تھے۔ انھوں نے استعماری معاشرت، سیاست اور مغربی تہذیب پر طنز لکھا۔

Read all poetry by Akbar Allahabadi

More Urdu poetry by Akbar Allahabadi