Prof. Syed Mujahid Sajjad

آج آرائش گیسوئے دوتا ہوتی ہے

اکبر الہ آبادی

کلیاتِ اکبر

Published 14 October 2026

آج آرائش گیسوئے دوتا ہوتی ہے

پھر مری جان گرفتار بلا ہوتی ہے

شوق پابوسیٔ جاناں مجھے باقی ہے ہنوز

گھاس جو اگتی ہے تربت پہ حنا ہوتی ہے

پھر کسی کام کا باقی نہیں رہتا انساں

سچ تو یہ ہے کہ محبت بھی بلا ہوتی ہے

جو زمیں کوچۂ قاتل میں نکلتی ہے نئی

وقف وہ بہر مزار شہدا ہوتی ہے

جس نے دیکھی ہو وہ چتون کوئی اس سے پوچھے

جان کیوں کر ہدف تیر قضا ہوتی ہے

نزع کا وقت برا وقت ہے خالق کی پناہ

ہے وہ ساعت کہ قیامت سے سوا ہوتی ہے

روح تو ایک طرف ہوتی ہے رخصت تن سے

آرزو ایک طرف دل سے جدا ہوتی ہے

خود سمجھتا ہوں کہ رونے سے بھلا کیا حاصل

پر کروں کیا یوں ہی تسکین ذرا ہوتی ہے

روندتے پھرتے ہیں وہ مجمع اغیار کے ساتھ

خوب توقیر مزار شہدا ہوتی ہے

مرغ بسمل کی طرح لوٹ گیا دل میرا

نگہ ناز کی تاثیر بھی کیا ہوتی ہے

نالہ کر لینے دیں للہ نہ چھیڑیں احباب

ضبط کرتا ہوں تو تکلیف سوا ہوتی ہے

جسم تو خاک میں مل جاتے ہوئے دیکھتے ہیں

روح کیا جانے کدھر جاتی ہے کیا ہوتی ہے

ہوں فریب ستم یار کا قائل اکبرؔ

مرتے مرتے نہ کھلا یہ کہ جفا ہوتی ہے

اکبر الہ آبادی

About Akbar Allahabadi (اکبر الہ آبادی)

اکبر الہ آبادی (1846 – 1921) اردو کے مزاحیہ اور طنزیہ شاعر تھے۔ انھوں نے استعماری معاشرت، سیاست اور مغربی تہذیب پر طنز لکھا۔

Read all poetry by Akbar Allahabadi

More Urdu poetry by Akbar Allahabadi