Prof. Syed Mujahid Sajjad

انہیں نگاہ ہے اپنے جمال ہی کی طرف

اکبر الہ آبادی

کلیاتِ اکبر

Published 14 October 2026

انہیں نگاہ ہے اپنے جمال ہی کی طرف

نظر اٹھا کے نہیں دیکھتے کسی کی طرف

توجہ اپنی ہو کیا فن شاعری کی طرف

نظر ہر ایک کی جاتی ہے عیب ہی کی طرف

لکھا ہوا ہے جو رونا مرے مقدر میں

خیال تک نہیں جاتا کبھی ہنسی کی طرف

تمہارا سایہ بھی جو لوگ دیکھ لیتے ہیں

وہ آنکھ اٹھا کے نہیں دیکھتے پری کی طرف

بلا میں پھنستا ہے دل مفت جان جاتی ہے

خدا کسی کو نہ لے جائے اس گلی کی طرف

کبھی جو ہوتی ہے تکرار غیر سے ہم سے

تو دل سے ہوتے ہو در پردہ تم اسی کی طرف

نگاہ پڑتی ہے ان پر تمام محفل کی

وہ آنکھ اٹھا کے نہیں دیکھتے کسی کی طرف

نگاہ اس بت خود بیں کی ہے مرے دل پر

نہ آئنہ کی طرف ہے نہ آرسی کی طرف

قبول کیجیئے للہ تحفۂ دل کو

نظر نہ کیجیئے اس کی شکستگی کی طرف

یہی نظر ہے جو اب قاتل زمانہ ہوئی

یہی نظر ہے کہ اٹھتی نہ تھی کسی کی طرف

غریب خانہ میں للٰلہ دو گھڑی بیٹھو

بہت دنوں میں تم آئے ہو اس گلی کی طرف

ذرا سی دیر ہی ہو جائے گی تو کیا ہوگا

گھڑی گھڑی نہ اٹھاؤ نظر گھڑی کی طرف

جو گھر میں پوچھے کوئی خوف کیا ہے کہہ دینا

چلے گئے تھے ٹہلتے ہوئے کسی کی طرف

ہزار جلوۂ حسن بتاں ہو اے اکبرؔ

تم اپنا دھیان لگائے رہو اسی کی طرف

About Akbar Allahabadi (اکبر الہ آبادی)

اکبر الہ آبادی (1846 – 1921) اردو کے مزاحیہ اور طنزیہ شاعر تھے۔ انھوں نے استعماری معاشرت، سیاست اور مغربی تہذیب پر طنز لکھا۔

Read all poetry by Akbar Allahabadi

More Urdu poetry by Akbar Allahabadi