دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
کلیاتِ اکبر
Published 14 October 2026
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
زندہ ہوں مگر زیست کی لذت نہیں باقی
ہر چند کہ ہوں ہوش میں ہشیار نہیں ہوں
اس خانۂ ہستی سے گزر جاؤں گا بے لوث
سایہ ہوں فقط نقش بہ دیوار نہیں ہوں
افسردہ ہوں عبرت سے دوا کی نہیں حاجت
غم کا مجھے یہ ضعف ہے بیمار نہیں ہوں
وہ گل ہوں خزاں نے جسے برباد کیا ہے
الجھوں کسی دامن سے میں وہ خار نہیں ہوں
یا رب مجھے محفوظ رکھ اس بت کے ستم سے
میں اس کی عنایت کا طلب گار نہیں ہوں
گو دعوی تقوی نہیں درگاہ خدا میں
بت جس سے ہوں خوش ایسا گنہ گار نہیں ہوں
افسردگی و ضعف کی کچھ حد نہیں اکبرؔ
کافر کے مقابل میں بھی دیں دار نہیں ہوں
About Akbar Allahabadi (اکبر الہ آبادی)
اکبر الہ آبادی (1846 – 1921) اردو کے مزاحیہ اور طنزیہ شاعر تھے۔ انھوں نے استعماری معاشرت، سیاست اور مغربی تہذیب پر طنز لکھا۔