Prof. Syed Mujahid Sajjad

عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا

اکبر الہ آبادی

کلیاتِ اکبر

Published 14 October 2026

عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا

جو برہمن نے کہا آخر وہ سب کرنا پڑا

صبر کرنا فرقت محبوب میں سمجھے تھے سہل

کھل گیا اپنی سمجھ کا حال جب کرنا پڑا

تجربے نے حب دنیا سے سکھایا احتراز

پہلے کہتے تھے فقط منہ سے اور اب کرنا پڑا

شیخ کی مجلس میں بھی مفلس کی کچھ پرسش نہیں

دین کی خاطر سے دنیا کو طلب کرنا پڑا

کیا کہوں بے خود ہوا میں کس نگاہ مست سے

عقل کو بھی میری ہستی کا ادب کرنا پڑا

اقتضا فطرت کا رکتا ہے کہیں اے ہم نشیں

شیخ صاحب کو بھی آخر کار شب کرنا پڑا

عالم ہستی کو تھا مد نظر کتمان راز

ایک شے کو دوسری شے کا سبب کرنا پڑا

شعر غیروں کے اسے مطلق نہیں آئے پسند

حضرت اکبرؔ کو بالآخر طلب کرنا پڑا

About Akbar Allahabadi (اکبر الہ آبادی)

اکبر الہ آبادی (1846 – 1921) اردو کے مزاحیہ اور طنزیہ شاعر تھے۔ انھوں نے استعماری معاشرت، سیاست اور مغربی تہذیب پر طنز لکھا۔

Read all poetry by Akbar Allahabadi

More Urdu poetry by Akbar Allahabadi