نذیر اکبر آبادی
Nazeer Akbarabadi: Urdu poetry
نذیر اکبر آبادی (1735 – 1830) اردو کے عوامی شاعر تھے جو آگرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ عوام کی بولی میں لکھی گئی ان کی نظمیں بنجارہ نامہ، ہولی، عید اور دیوالی کے موضوعات پر مشہور ہیں۔
29 verses on this site
Nazm
اک دشت میں سنا ہے کہ اک خوب تھا ہرن
Nazm
ہوا جو آ کے نشاں آشکار ہولی کا
Nazm
جب آئی ہولی رنگ بھری سو ناز و ادا سے مٹک مٹک
Nazm
قاتل جو میرا اوڑھے اک سرخ شال آیا
Nazm
جدا نہ ہم سے ہو اے خوش جمال ہولی میں
Nazm
ملنے کا ترے رکھتے ہیں ہم دھیان ادھر دیکھ
Nazm
یہ تن جو ہے ہر اک کے اتارے کا جھونپڑا
Nazm
میاں تو ہم سے نہ رکھ کچھ غبار ہولی میں
Nazm
دوستو کیا کیا دوالی میں نشاط و عیش ہے
Nazm
گلشن عالم میں جب تشریف لاتی ہے بہار
Nazm
چلی آتی ہے اب تو ہر کہیں بازار کی راکھی
Nazm
دنیا میں کوئی شاد کوئی درد ناک ہے
Nazm
پھر آن کے عشرت کا مچا ڈھنگ زمیں پر
Nazm
ہیں کہتے نانک شاہ جنہیں وہ پورے ہیں آگاہ گرو
Nazm
یوں لب سے اپنے نکلے ہے اب بار بار آہ
Nazm
نقش یاں جس کے میاں ہاتھ لگا پیسے کا
Nazm
آ دھمکے عیش و طرب کیا کیا جب حسن دکھایا ہولی نے
Nazm
پہلے ناؤں گنیش کا، لیجئے سیس نوائے
Nazm
جب ماہ اگھن کا ڈھلتا ہو تب دیکھ بہاریں جاڑے کی
Nazm
کیونکر کرے نہ اپنی نموداری شب برات
Nazm
دل خوشامد سے ہر اک شخص کا کیا راضی ہے
Nazm
ہر اک مکاں میں جلا پھر دیا دوالی کا
Nazm
ہے دنیا جس کا ناؤں میاں یہ اور طرح کی بستی ہے
Nazm
جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی
Nazm
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسی
Nazm
جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاں
Nazm
ہیں اس ہوا میں کیا کیا برسات کی بہاریں
Nazm
دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمی
Nazm
ٹک حرص و ہوا کو چھوڑ میاں مت دیس بدیس پھرے مارا