ملنے کا ترے رکھتے ہیں ہم دھیان ادھر دیکھ
کلیاتِ نذیر
Published 14 October 2026
ملنے کا ترے رکھتے ہیں ہم دھیان ادھر دیکھ
بھاتی ہے بہت ہم کو تری آن ادھر دیکھ
ہم چاہنے والے ہیں ترے جان ادھر دیکھ
ہولی ہے صنم ہنس کے تو اک آن ادھر دیکھ
اے رنگ بھرے نو گل خنداں ادھر دیکھ
ہم دیکھنے تیرا یہ جمال اس گھڑی اے جاں
آئے ہیں یہی کرکے خیال اس گھڑی اے جاں
تو دل میں نہ رکھ ہم سے ملال اس گھڑی اے جاں
مکھڑے پہ ترے دیکھ گلال اس گھڑی اے جاں
ہولی بھی یہی کہتی ہے اے جان ادھر دیکھ
اب زرد یہ چیرا جو ترے سر پہ جما ہے
اور اس پہ یہ طرہ جو زری کا بھی دھرا ہے
نیما بھی ترا رنگ سے کیسر کے بھرا ہے
پوشاک پہ تیری گل صد برگ فدا ہے
نرگس تری آنکھوں پہ ہے قربان ادھر دیکھ
ہولی کی طرب ہے جو ہر اک جا میں نمودار
سنتے ہیں کہیں راگ کہیں مے سے ہیں سرشار
ہے دل میں ہمیں تو تری نظروں سے سروکار
پچکاری ہمارے تو لگا یا نہ لگا یار
ہم کو تو فقط ہے یہی ارمان ادھر دیکھ
ہے دھوم سے ہولی کی کہیں شور کہیں غل
ہوتا نہیں کچھ رنگ چھڑکنے میں تأمل
دف بجتے ہیں سب ہنستے ہیں اور دھوم ہے بالکل
ہولی کی خوشی میں تو نہ کر ہم سے تغافل
اے جان ہمارا بھی کہا مان ادھر دیکھ
ہے دید کی ہر آن طلب دل کو ہمارے
جیتے ہیں فقط تیری نگاہوں کے سہارے
ہیں یاں جو کھڑے آن کے اس شوق کے مارے
ہم ایک نگہ کے ترے مشتاق ہیں پیارے
ٹک پیار کی نظروں سے مری جان ادھر دیکھ
ہر چار طرف ہولی کی دھومیں ہیں اہا ہا
دیکھو جدھر آتا ہے نظر روز تماشا
ہر آن جھمکتا ہے عجب عیش کا چرچا
ہولی کو نظیرؔ اب تو کھڑا دیکھے ہے یاں کیا
محبوب یہ آیا ارے نادان ادھر دیکھ
About Nazeer Akbarabadi (نذیر اکبر آبادی)
نذیر اکبر آبادی (1735 – 1830) اردو کے عوامی شاعر تھے جو آگرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ عوام کی بولی میں لکھی گئی ان کی نظمیں بنجارہ نامہ، ہولی، عید اور دیوالی کے موضوعات پر مشہور ہیں۔