Prof. Syed Mujahid Sajjad

اک دشت میں سنا ہے کہ اک خوب تھا ہرن

نذیر اکبر آبادی

کلیاتِ نذیر

Published 14 October 2026

اک دشت میں سنا ہے کہ اک خوب تھا ہرن

بچہ ہی تھا ابھی نہ ہوا تھا بڑا ہرن

پھرتا تھا چوکڑی کا دکھاتا مزا ہرن

دیکھا جو ایک کوے نے وہ خوش نما ہرن

دل کو نہایت اس کے وہ اچھا لگا ہرن

دو باتیں کر کے کوے نے اس کو لگا لیا

دم میں ہرن بھی کوے کی الفت میں آ گیا

کوے ہرن میں ٹھہری جو گہری محبت آ

کوا جدھر جدھر کو خوشی ہو کے جاتا تھا

پھرتا تھا اس کے ساتھ لگا جا بجا ہرن

اک گیدڑ اس ہرن کے کنے آ کے نابکار

بولا ہزار جان سے میں تم پہ ہوں نثار

مجھ کو بھی اپنا جان غلام اور دوست دار

اور دل میں یہ کہ کیجے کسی طور سے شکار

اس کی دغا و مکر سے واقف نہ تھا ہرن

گیدڑ یہ کہہ کے مکر سے جس دم گیا ادھر

کوا ہرن سے کہنے لگا کر کے شور و شر

یہ سخت مکر باز ہے کر اس سے تو حذر

اک دن دغا سے تجھ کو یہ پکڑے گا فتنہ گر

سن کر یہ بات کوے کی چپ ہو رہا ہرن

دن دوسرے ہرن کنے گیدڑ پھر آ گیا

کوے کو سوتا دیکھ یہ بولا وہ پر دغا

میں آج دیکھ آیا ہوں کیا کھیت اک ہرا

تم کھاؤ اس کو چل کے تو ہو شاد دل مرا

سنتے ہی اس کے ساتھ اچھلتا چلا ہرن

جس کھیت پہ یہ لے کے گیا اس کو بد سگال

واں پہلے دیکھ آیا تھا وہ اک ہرن کا جال

لے پہنچا جب ہرن کے تئیں کھیت پر شغال

جاتے ہی واں ہرن نے دیا منہ کو اس میں ڈال

منہ ڈالتے ہی جال میں واں پھنس گیا ہرن

واں پھڑپھڑاتا آ گیا کوا بھی ناگہاں

گیدڑ کو دے کے گالی ہرن سے کہا کہ ہاں

تڑپے مت اس میں ورنہ تو ہووے گا ناتواں

کوے کی بات سنتے ہی ہمت کو باندھ واں

جیسے گرا پڑا تھا وہیں پھر اٹھا ہرن

گیدڑ لگا جب آنے ہرن کی طرف جھپٹ

کوا پکارا مار تو سینگ اک جو جاوے ہٹ

یا اک کھری تو ایسی لگا پاؤں کی لپٹ

جاوے جو اس کے لگتے ہی گیدڑ کا پیٹ پھٹ

سن کر کھڑے ہو سینگ ہلانے لگا ہرن

گیدڑ نے خوب کوے کو دیں جل کے گالیاں

صیاد واں ہوا تھا کسی کام کو رواں

اس میں شکاری آ کے ہوا دور سے عیاں

کوا پکارا لیٹ جا دم بند کر کے ہاں

دم بند کر کے اپنا وہیں گر پڑا ہرن

گیدڑ نے اس کو دیکھ کے اک جا کے جھاڑی لی

صیاد اس ہرن کو پڑا دیکھ اوس گھڑی

افسوس کر کے دام کی رسی وہ کھول دی

کوا پکارا بھاگ ارے وقت ہے یہی

سنتے ہی واں سے چوکڑی بھر کر اڑا ہرن

صیاد نے جو دیکھا ہرن اٹھ چلا جھپاک

جلدی سے دوڑا پیچھے ہرن کے وہ سینہ چاک

سونٹے کو پھینک مارا جو پھرتی سے اس نے تاک

بھاگا ہرن لگا وہیں گیدڑ کے آ کھٹاک

سر اس کا پھوٹا اور وہ سلامت گیا ہرن

گیدڑ نے اس ہرن کا جو چیتا تھا واں برا

پائی اسی نے اپنی بدی کی وہیں سزا

تھا یہ تو نثر میں نے اسے نظم میں کیا

پہنچا نظیرؔ جب وہ خوشی ہو کے اپنی جا

کوے کے ساتھ پھر وہ بہت خوش رہا ہرن

About Nazeer Akbarabadi (نذیر اکبر آبادی)

نذیر اکبر آبادی (1735 – 1830) اردو کے عوامی شاعر تھے جو آگرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ عوام کی بولی میں لکھی گئی ان کی نظمیں بنجارہ نامہ، ہولی، عید اور دیوالی کے موضوعات پر مشہور ہیں۔

Read all poetry by Nazeer Akbarabadi

More Urdu poetry by Nazeer Akbarabadi