کیونکر کرے نہ اپنی نموداری شب برات
کلیاتِ نذیر
Published 14 October 2026
کیونکر کرے نہ اپنی نموداری شب برات
چلپک چپاتی حلوے سے ہے بھاری شب برات
زندوں کی ہے زباں کی مزیداری شب برات
مردوں کی روح کی ہے مددگاری شب برات
لگتی ہے سب کے دل کو غرض پیاری شب برات
شکر کا جن کے حلوہ ہوا وہ تو پورے ہیں
گڑ کا ہوا ہے جن کے وہ ان سے ادھورے ہیں
شکر نہ گڑ کا جن کے وہ پرکٹ لنڈورے ہیں
اوروں کے میٹھے حلوے چپاتی کو گھورے ہیں
ان کی نہ آدھی پاؤ نہ کچھ ساری شب برات
دنیا کی دولتوں میں جو زردار ہیں بڑے
قندوں کے حلوے روغنی نانیں لیے کھڑے
پہنچائے خوان پھرتے ہیں نوکر کئی پڑے
زندے بھی راہ تکتے ہیں مردے بھی ہیں کھڑے
ان خوبیوں کو رکھتی ہے تیاری شب برات
ٹھلیاں چپاتی حلوے کی تو سب میں چال ہے
ادنیٰ غریب کے تئیں یہ بھی محال ہے
کالے سے گڑ کی لپٹی کڑھی کی مثال ہے
پانی سے ہانڈی گیہوں کی روٹی بھی لال ہے
کرتی ہے ایسی دکھیا پنساری شب برات
اور مفلسوں کی ہے یہ تمنا کی فاتحہ
دریا پہ جا کے دیتے ہیں بابا کی فاتحہ
بھٹیاری کے تنور پہ نانا کی فاتحہ
حلوائی کی دکان پہ دادا کی فاتحہ
یاں تک تو ان پہ لاتی ہے ناچاری شب برات
وارث ہیں جن کے جیتے وہ مردے بھی آن کر
حلوے چپاتی خوب ہی چکھتے ہیں پیٹ بھر
جن کا کوئی نہیں ہے وہ پھرتے ہیں در بدر
اوروں کے لگتے پھرتے ہیں کونوں سے گھر بہ گھر
ان کی ہے کھاری نون سے بھی کھاری شب برات
ملا جو دینے فاتحہ گھر گھر میں جاتے ہیں
حلوہ کہیں کہیں وہ چپاتی اڑاتے ہیں
مفلس کوئی بلاوے تو منہ کو چھپاتے ہیں
شکر کا حلوہ سنتے ہی بس دوڑے جاتے ہیں
کہتے ہوئے یہ دل میں اہا ہا ری شب برات
چھوڑے ہے لٹو تونبڑی ہر دم بنا کے جو
حاکم کا پیادہ کہتا ہے یوں اس سے تلخ ہو
کپڑے بدن بچا کے جو چاہو سو چھوڑ دو
چھپر جلاؤ گے تو دلاوے گی صبح کو
تم سے چبوترے میں گنہ گاری شب برات
پھرتے ہیں عشق باز جو لڑکے کی گھات میں
ٹونٹا ہی لے کے دیتے ہیں لڑکے کے ہاتھ میں
مہتابی آ کے چھوڑیں ہیں لڑکے جو رات میں
کیا زرکیاں سی چھوڑے ہیں ہنس ہنس کے بات میں
کرتی ہے کام ان کے بھی یوں جاری شب برات
جو رنڈی باز ہیں وہ بہت دل میں شاد ہو
کیا کیا انار چھوڑے ہیں بشنی ہو روبرو
اے بی تم اپنی کلھیا ہمیں چھوڑنے کو دو
اور چاہو تم ہمارا یہ ہت پھول چھوڑ لو
ہو جائے جس کے چھٹتے ہی پھلواری شب برات
اور جو بہار حسن کے ہیں پاکباز یار
گلکاری چھوڑے ہیں جہاں محبوب گلعذار
کہتے ہیں ان کو دیکھ کے آنکھوں میں کر کے پیار
کیا چاہیے میاں تمہیں ہت پھول اور انار
تم پر تو آپ ہوتی ہے اب واری شب برات
گھن چکر اپنے دم میں کہیں چرخ کھاتے ہیں
ٹونٹے ہوائی سینک کہیں قہقہہاتے ہیں
زینپٹ زپٹ پٹاخے کہیں غل مچاتے ہیں
لڑکوں کے باندھ غول کہیں لڑنے جاتے ہیں
کرتی ہے پھر تو ایسی دھواندھاری شب برات
آ کر کسی کے سر پہ چھچھوندر لگی کڑی
اوپر سے اور ہوائی کی آ کر پڑی چھڑی
ہو گئی گلے کا ہار پٹاخے کی ہر لڑی
پاؤں سے لپٹی شور مچا کر قلم تڑی
کرتی ہے پھر تو ایسی ستم گاری شب برات
چہرہ کسی کا جل گیا آنکھیں جھلس گئیں
چھائی کسی کی جل گئیں باہیں جھلس گئیں
ٹانگیں بچیں کسی کی تو رانیں جھلس گئیں
مونچھیں کسی کی پھک گئیں پلکیں جھلس گئیں
رکھے کسی کی داڑھی پہ چنگاری شب برات
کوئی دوستوں کو دل میں سمجھتا ہے اپنے غیر
کوئی دشمنوں سے دل کا نکالے ہے اپنا بیر
کہتا ہے واں نظیرؔ بھی آتش کی دیکھ سیر
یا رب تو سب کی کیجیو برسا برس کی خیر
بے طرح کر رہی ہے نموداری شب برات
About Nazeer Akbarabadi (نذیر اکبر آبادی)
نذیر اکبر آبادی (1735 – 1830) اردو کے عوامی شاعر تھے جو آگرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ عوام کی بولی میں لکھی گئی ان کی نظمیں بنجارہ نامہ، ہولی، عید اور دیوالی کے موضوعات پر مشہور ہیں۔