Prof. Syed Mujahid Sajjad

دنیا میں کوئی شاد کوئی درد ناک ہے

نذیر اکبر آبادی

کلیاتِ نذیر

Published 14 October 2026

دنیا میں کوئی شاد کوئی درد ناک ہے

یا خوش ہے یا الم کے سبب سینہ چاک ہے

ہر ایک دم سے جان کا ہر دم تپاک ہے

ناپاک تن پلید نجس یا کہ پاک ہے

جو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے

ہے آدمی کی ذات کا اس جا بڑا ظہور

لے عرش تا بہ فرش چمکتا ہے جس کا نور

گزرے ہے ان کی قبر پہ جب وحش اور طیور

رو رو یہی کہے ہے ہر اک قبر کے حضور

جو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے

دنیا سے جب کہ انبیا اور اولیا اٹھے

اجسام پاک ان کے اسی خاک میں رہے

روحیں ہیں خوب جان میں روحوں کے ہیں مزے

پر جسم سے تو اب یہی ثابت ہوا مجھے

جو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہیں

وہ شخص تھے جو سات ولایت کے بادشاہ

حشمت میں جن کی عرش سے اونچی تھی بارگاہ

مرتے ہی ان کے تن ہوئے گلیوں کی خاک راہ

اب ان کے حال کی بھی یہی بات ہے گواہ

جو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے

کس کس طرح کے ہو گئے محبوب کج کلاہ

تن جن کے مثل پھول تھے اور منہ بھی رشک ماہ

جاتی ہے ان کی قبر پہ جس دم مری نگاہ

روتا ہوں جب تو میں یہی کہہ کہہ کے دل میں آہ

جو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے

وہ گورے گورے تن کہ جنہوں کی تھی دل میں جائے

ہوتے تھے میلے ان کے کوئی ہاتھ گر لگائے

سو ویسے تن کو خاک بنا کر ہوا اڑائے

رونا مجھے تو آتا ہے اب کیا کہوں میں ہاے

جو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے

عمدوں کے تن کو تانبے کے صندوق میں دھرا

مفلس کا تن پڑا رہا ماٹی اپر پڑا

قائم یہاں یہ اور نہ ثابت وہ واں رہا

دونوں کو خاک کھا گئی یارو کہوں میں کیا

جو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے

گر ایک کو ہزار روپے کا ملا کفن

اور ایک یوں پڑا رہا ہے بے کس برہنہ تن

کیڑے مکوڑے کھا گئے دونوں کے تن بدن

دیکھا جو ہم نے آہ تو سچ ہے یہی سخن

جو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے

جتنے جہاں میں ناچ ہیں کنگنی سے تا گیہوں

اور جتنے میوہ جات ہیں تر خشک گوناگوں

کپڑے جہاں تلک ہیں سپیدہ و سیہ نموں

کمخواب تاش بادلہ کس کس کا نام لوں

جو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے

جتنے درخت دیکھو ہو بوٹے سے تا بہ جھاڑ

بڑ پیپل آنب نیب چھوارا کھجور تاڑ

سب خاک ہوں گے جب کہ فنا ڈالے گی اکھاڑ

کیا بوٹے ڈیڑھ پات کے کیا جھاڑ کیا پہاڑ

جو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے

جتنا یہ خاک کا ہے طلسمات بن رہا

پھر خاک اس کو ہوتا ہے یارو جدا جدا

ترکاری ساگ پات زہر امرت اور دوا

زر سیم کوڑی لعل زمرد اور ان سوا

جو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے

گڑھ کوٹ توپ رہکلہ تیغ و کمان و تیر

باغ و چمن محل و مکانات دل پزیر

ہونا ہے سب کو آہ اسی خاک میں خمیر

میری زباں پہ اب تو یہی بات ہے نظیرؔ

جو خاک سے بنا ہے وہ آخر کو خاک ہے

About Nazeer Akbarabadi (نذیر اکبر آبادی)

نذیر اکبر آبادی (1735 – 1830) اردو کے عوامی شاعر تھے جو آگرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ عوام کی بولی میں لکھی گئی ان کی نظمیں بنجارہ نامہ، ہولی، عید اور دیوالی کے موضوعات پر مشہور ہیں۔

Read all poetry by Nazeer Akbarabadi

More Urdu poetry by Nazeer Akbarabadi