Prof. Syed Mujahid Sajjad

پھر آن کے عشرت کا مچا ڈھنگ زمیں پر

نذیر اکبر آبادی

کلیاتِ نذیر

Published 14 October 2026

پھر آن کے عشرت کا مچا ڈھنگ زمیں پر

اور عیش نے عرصہ ہے کیا تنگ زمیں پر

ہر دل کو خوشی کا ہوا آہنگ زمیں پر

ہوتا ہے کہیں راگ کہیں رنگ زمیں پر

بجتے ہیں کہیں تال کہیں زنگ زمیں پر

ہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر

گھنگرو کی پڑی آن کے پھر کان میں جھنکار

سارنگی ہوئی بین طنبوروں کی مددگار

طبلوں کے ٹھکے طبل یہ سازوں کے بجے تار

راگوں کے کہیں غل کہیں ناچوں کے بندھے تار

ڈھولک کہیں جھنکارے ہے مردنگ زمیں پر

ہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر

مستی میں اٹھا آنکھ جدھر دیکھو اہاہا

ناچے ہے طوائف کہیں مٹکے ہے بھویا

چلتے ہیں کہیں جام کہیں سوانگ کا چرچا

او رنگ کو گلیوں میں جو دیکھو تو ہر اک جا

بہتی ہیں امنڈ کر جمن و گنگ زمیں پر

ہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر

بھاگے ہے کہیں رنگ کسی پر جو کوئی ڈال

وہ پوٹلی مارے ہے اسے دوڑ کے فی الحال

یہ ٹانگ گھسیٹے ہے تو وہ کھینچے پکڑ بال

وہ ہاتھ مروڑے تو یہ توڑے ہے کھڑا گال

اس ڈھب کے ہر اک جا پہ مچے ڈھنگ زمیں پر

ہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر

بیٹھے ہیں سب آپس میں نہیں ایک بھی کڑوا

پچکاری اٹھا کر کوئی جھمکاوے ہے کھڑوا

بھرتے ہیں کہیں مشک کہیں رنگ کا گڑوا

کیا شاد وہ ہوتا ہے جسے کہتے ہیں بھڑوا

سننے میں یہاں تک نہیں اب ننگ زمیں پر

ہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر

ہولی کی نظیرؔ اب جو بہاریں ہیں اہاہا

محبوب رنگیلوں کی قطاریں ہیں اہاہا

کپڑوں پہ جمی رنگ کی دھاریں ہیں اہاہا

سب ہولی ہے ہولی ہی پکارے ہیں اہاہا

کیا عیش ہے کیا رنگ ہے کیا ڈھنگ زمیں پر

ہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر

About Nazeer Akbarabadi (نذیر اکبر آبادی)

نذیر اکبر آبادی (1735 – 1830) اردو کے عوامی شاعر تھے جو آگرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ عوام کی بولی میں لکھی گئی ان کی نظمیں بنجارہ نامہ، ہولی، عید اور دیوالی کے موضوعات پر مشہور ہیں۔

Read all poetry by Nazeer Akbarabadi

More Urdu poetry by Nazeer Akbarabadi