Prof. Syed Mujahid Sajjad

گلشن عالم میں جب تشریف لاتی ہے بہار

نذیر اکبر آبادی

کلیاتِ نذیر

Published 14 October 2026

گلشن عالم میں جب تشریف لاتی ہے بہار

رنگ و بو کے حسن کیا کیا کچھ دکھاتی ہے بہار

صبح کو لا کر نسیم دل کشا ہر شاخ پر

تازہ تر کس کس طرح کے گل کھلاتی ہے بہار

نونہالوں کی دکھا کر دم بدم نشو و نما

جسم میں روح رواں کیا کیا بڑھاتی ہے بہار

بلبلیں چہکارتی ہیں شاخ گل پر جا بجا

بلبلیں کیا فی الحقیقت چہچہاتی ہے بہار

حوض و فواروں کو دے کر آبرو پھر لطف سے

کیا معطر فرش سبزے کا بچھاتی ہے بہار

جنبش باد صبا سے ہو کے ہم دوش نشاط

ساتھ ہر سبزے کے کیا کیا لہلہاتی ہے بہار

خلق کو ہر لحظہ اپنے حسن کی رنگت دکھا

بے تکلف کیا ہی ہر دل میں سماتی ہے بہار

مجمع خوباں ہجوم عاشقاں اور جوش گل

دیکھ ان رنگوں کو کیا کیا کھلکھلاتی ہے بہار

گل رخوں کی دیکھ کر گل بازیاں ہر دم نظیر

گل ادھر خنداں ادھر دھومیں مچاتی ہے بہار

About Nazeer Akbarabadi (نذیر اکبر آبادی)

نذیر اکبر آبادی (1735 – 1830) اردو کے عوامی شاعر تھے جو آگرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ عوام کی بولی میں لکھی گئی ان کی نظمیں بنجارہ نامہ، ہولی، عید اور دیوالی کے موضوعات پر مشہور ہیں۔

Read all poetry by Nazeer Akbarabadi

More Urdu poetry by Nazeer Akbarabadi