مومن خان مومن
Momin Khan Momin: Urdu poetry
مومن خان مومن (1800 – 1852) دہلی کے شاعر، طبیب اور منجم تھے۔ اپنی غزلوں بالخصوص "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا" کے لیے مشہور ہیں۔
50 verses on this site
Ghazal
جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا
Ghazal
ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا
Ghazal
تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں
Ghazal
وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہمارا
Ghazal
ہو نہ بیتاب ادا تمہاری آج
Ghazal
نہ انتظار میں یاں آنکھ ایک آن لگی
Ghazal
راز نہاں زبان اغیار تک نہ پہنچا
Ghazal
شوخ کہتا ہے بے حیا جانا
Ghazal
جو تیرے منہ سے نہ ہو شرمسار آئینہ
Ghazal
امتحاں کے لیے جفا کب تک
Ghazal
وعدۂ وصلت سے دل ہو شاد کیا
Ghazal
شب تم جو بزم غیر میں آنکھیں چرا گئے
Ghazal
دیکھ لو شوق نا تمام مرا
Ghazal
اس وسعت کلام سے جی تنگ آ گیا
Ghazal
دیدۂ حیراں نے تماشا کیا
Ghazal
آگ اشک گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیا
Ghazal
میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے
Ghazal
جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں
Ghazal
گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا
Ghazal
چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ
Ghazal
دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی
Ghazal
غصہ بیگانہ وار ہونا تھا
Ghazal
اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنا
Ghazal
صبر وحشت اثر نہ ہو جائے
Ghazal
ہے دل میں غبار اس کے گھر اپنا نہ کریں گے
Ghazal
یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیا
Ghazal
ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو
Ghazal
الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ
Ghazal
تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب
Ghazal
اگر غفلت سے باز آیا جفا کی
Ghazal
عدم میں رہتے تو شاد رہتے اسے بھی فکر ستم نہ ہوتا
Ghazal
مومنؔ خدا کے واسطے ایسا مکاں نہ چھوڑ
Ghazal
دل قابل محبت جاناں نہیں رہا
Ghazal
تم بھی رہنے لگے خفا صاحب
Ghazal
کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیے
Ghazal
ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
Ghazal
وہ کہاں ساتھ سلاتے ہیں مجھے
Ghazal
دل بستگی سی ہے کسی زلف دوتا کے ساتھ
Ghazal
محشر میں پاس کیوں دم فریاد آ گیا
Ghazal
دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے
Ghazal
رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح
Ghazal
آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو
Ghazal
ہم جان فدا کرتے ، گر وعدہ وفا ہوتا
Ghazal
سودا تھا بلائے جوش پر رات
Ghazal
اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کو
Ghazal
غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا
Ghazal
قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق
Ghazal
ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے
Ghazal
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
Ghazal
وہ جو ہم میں تُم میں قرار تھا