دیدۂ حیراں نے تماشا کیا
دیوانِ مومن
Published 14 October 2026
دیدۂ حیراں نے تماشا کیا
دیر تلک وہ مجھے دیکھا کیا
ضبط فغاں گو کہ اثر تھا کیا
حوصلہ کیا کیا نہ کیا کیا کیا
آنکھ نہ لگنے سے شب احباب نے
آنکھ کے لگ ج��نے کا چرچا کیا
مر گئے اس کے لب جاں بخش پر
ہم نے علاج آپ ہی اپنا کیا
بجھ گئی اک آہ میں شمع حیات
مجھ کو دم سرد نے ٹھنڈا کیا
غیر عیادت سے برا مانتے
قتل کیا آن کے اچھا کیا
ان سے پری وش کو نہ دیکھے کوئی
مجھ کو مری شرم نے رسوا کیا
زندگیٔ ہجر بھی اک موت تھی
مرگ نے کیا کار مسیحا کیا
پان میں یہ رنگ کہاں آپ نے
آپ مرے خون کا دعویٰ کیا
جور کا شکوہ نہ کروں ظلم ہے
راز مرا صبر نے افشا کیا
کچھ بھی بن آتی نہیں کیا کیجیے
اس کے بگڑنے نے کچھ ایسا کیا
جائے تھی تیری مرے دل میں سو ہے
غیر سے کیوں شکوۂ بے جا کیا
رحم فلک اور مرے حال پر
تو نے کرم اے ستم آرا کیا
سچ ہی سہی آپ کا پیماں ولے
مرگ نے کب وعدۂ فردا کیا
دعویٔ تکلیف سے جلاد نے
روز جزا قتل پھر اپنا کیا
مرگ نے ہجراں میں چھپایا ہے منہ
لو منہ اسی پردہ نشیں کا کیا
دشمن مومنؔ ہی رہے بت سدا
مجھ سے مرے نام نے یہ کیا کیا
About Momin Khan Momin (مومن خان مومن)
مومن خان مومن (1800 – 1852) دہلی کے شاعر، طبیب اور منجم تھے۔ اپنی غزلوں بالخصوص "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا" کے لیے مشہور ہیں۔
More Urdu poetry by Momin Khan Momin
- جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا (Ghazal)
- ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا (Ghazal)
- تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں (Ghazal)
- وعدے کی جو ساعت دم کشتن ہے ہمارا (Ghazal)