Prof. Syed Mujahid Sajjad

ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو

مومن خان مومن

دیوانِ مومن

Published 14 October 2026

ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو

عذر کچھ چاہیئے ستانے کو

سنگ در سے ترے نکالی آگ

ہم نے دشمن کا گھر جلانے کو

صبح عشرت ہے وہ نہ شام وصال

ہائے کیا ہو گیا زمانے کو

بوالہوس روئے میرے گریہ پہ اب

منہ کہاں تیرے مسکرانے کو

برق کا آسمان پر ہے دماغ

پھونک کر میرے آشیانے کو

سنگ سودا جنوں میں لیتے ہیں

اپنا ہم مقبرہ بنانے کو

شکوہ ہے غیر کی کدورت کا

سو مرے خاک میں ملانے کو

روز محشر بھی ہوش گر آیا

جائیں گے ہم شراب خانے کو

سن کے وصف اس پہ مر گیا ہمدم

خوب آیا تھا غم اٹھانے کو

کوئی دن ہم جہاں میں بیٹھے ہیں

آسماں کے ستم اٹھانے کو

چل کے کعبہ میں سجدہ کر مومنؔ

چھوڑ اس بت کے آستانے کو

نقش پائے رقیب کی محراب

نہیں زیبندہ سر جھکانے کو

About Momin Khan Momin (مومن خان مومن)

مومن خان مومن (1800 – 1852) دہلی کے شاعر، طبیب اور منجم تھے۔ اپنی غزلوں بالخصوص "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا" کے لیے مشہور ہیں۔

Read all poetry by Momin Khan Momin

More Urdu poetry by Momin Khan Momin