Prof. Syed Mujahid Sajjad

سودا تھا بلائے جوش پر رات

مومن خان مومن

دیوانِ مومن

Published 14 October 2026

سودا تھا بلائے جوش پر رات

بستر پر بچھائے نشتر رات

بگڑے تھے یہاں وہ آن کر رات

بے طور بنی تھی جان پر رات

ہم تا سحر آپ میں نہیں تھے

کیا جانے رہے وہ کس کے گھر رات

افسانہ سمجھ کے سو گئے وہ

کام آئی فغان بے اثر رات

آئینے میں ہو نہ موم جادو

سوتے نہیں اب وہ تا سحر رات

تارے آنکھیں جھپک رہے تھے

تھا بام پہ کون جلوہ گر رات

اندھیرا پڑا زمانے میں ہائے

نے دن کو ہے مہر نے قمر رات

اس لیل و نہار غم نے مارا

ہے روز سے سیاہ تر رات

کیا پوچھو ہو منکر و نکیر آہ

بگڑے جو وہ طعن غیر پر رات

یہ بات بڑھی کہ مر گئے ہم

موت آئی تھی قصہ مختصر رات

اس گھر میں ہے عیش خلد مومنؔ

کیا جانے کہاں ہے دن کدھر رات

مومن خان مومن

About Momin Khan Momin (مومن خان مومن)

مومن خان مومن (1800 – 1852) دہلی کے شاعر، طبیب اور منجم تھے۔ اپنی غزلوں بالخصوص "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا" کے لیے مشہور ہیں۔

Read all poetry by Momin Khan Momin

More Urdu poetry by Momin Khan Momin