Prof. Syed Mujahid Sajjad

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو

مومن خان مومن

دیوانِ مومن

Published 14 October 2026

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو

ہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو

اس بت کے لیے میں ہوس حور سے گزرا

اس عشق خوش انجام کا آغاز تو دیکھو

چشمک مری وحشت پہ ہے کیا حضرت ناصح

طرز نگہ چشم فسوں ساز تو دیکھو

ارباب ہوس ہار کے بھی جان پہ کھیلے

کم طالعی عاشق جاں باز تو دیکھو

مجلس میں مرے ذکر کے آتے ہی اٹھے وہ

بدنامیٔ عشاق کا اعزاز تو دیکھو

محفل میں تم اغیار کو دز دیدہ نظر سے

منظور ہے پنہاں نہ رہے راز تو دیکھو

اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک

شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو

دیں پاکی دامن کی گواہی مرے آنسو

اس یوسف بے درد کا اعجاز تو دیکھو

جنت میں بھی مومنؔ نہ ملا ہائے بتوں سے

جور اجل تفرقہ پرداز تو دیکھو

About Momin Khan Momin (مومن خان مومن)

مومن خان مومن (1800 – 1852) دہلی کے شاعر، طبیب اور منجم تھے۔ اپنی غزلوں بالخصوص "وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا" کے لیے مشہور ہیں۔

Read all poetry by Momin Khan Momin

More Urdu poetry by Momin Khan Momin